حضرت یونس علیہ السلام نے قوم ثمود کو سیدھے راستے پر لانے کی بہت کوششیں کیں لیکن قوم ثمود پر آپ کی تعلیم کا کوئی اثر نہیں ہوا اور انہوں نے اللّٰہ تعالٰی کے وجود کو ماننے دے انکار کر دیا حضرت یونس علیہ السلام نے ان سے مایوس ہو کر ان کے لیے بددعا کی اور بستی سے نکل آئے-

حضرت یونس علیہ السلام نے قوم ثمود کو سیدھے راستے پر لانے کی بہت کوششیں کیں لیکن قوم ثمود پر آپ کی تعلیم کا کوئی اثر نہیں ہوا اور انہوں نے اللّٰہ تعالٰی کے وجود کو ماننے دے انکار کر دیا حضرت یونس علیہ السلام نے ان سے مایوس ہو کر ان کے لیے بددعا کی اور بستی سے نکل آئے-

حضرت یونس علیہ السلام نے قوم ثمود کو سیدھے راستے پر لانے کی بہت کوششیں کیں ... 16 مئی 2018 (15:44) 3:44 PM, May 16, 2018

حضرت یونس علیہ السلام نے قوم ثمود کو سیدھے راستے پر لانے کی بہت کوششیں کیں لیکن قوم ثمود پر آپ کی تعلیم کا کوئی اثر نہیں ہوا اور انہوں نے اللّٰہ تعالٰی کے وجود کو ماننے دے انکار کر دیا حضرت یونس علیہ السلام نے ان سے مایوس ہو کر ان کے لیے بددعا کی اور بستی سے نکل آئے-چلتے چلتے دریائے فرات کے کنارے پہنچ گئے ایک کشتی کنارے لگ لگی تھی لوگ اس پر سوار ہو رہے تھے آپ بھی اسی کشتی پر سوار ہو گئے کشتی جب بھر گئی تو اپنی منزل کی طرف روانہ ہو گئی سمندر پرسکون تھا آسمان صاف تھا لیکن جیسے ہی کشتی سمندر کے درمیان پہنچی تیز ہوائیں چلنے لگیں اور آسمان پر گہرے سیاہ بادل چھا گئے ہوا طوفان کی شکل اختیار کر گئی

کشتی سمندر میں ہچکولے لینے لگی کشتی کے ڈوبنے کا اندیشہ ہونے لگاکشتی میں بیٹھے ہوئے ایک شخص نے کہا کہ لگتا ہے کشتی میں کوئی ایسا شخص سوار ہےجس سے کوئی بڑی غلطی سرزد ہوئی ہے جب تک اسے کشتی سے نکال نہ دیا جائےاس طوفان سے نکلنا محال ہے وہ شخص کون ہے جب تک وہ خود نہ بتا دے اسے پہچاننا مشکل ہے -

اس پر حضرت یونس علیہ السلام نے کھڑے ہو کر کہا کہ وہ شخص میں ہوں جس سے بڑی غلطی سرزد ہوئی ہے اگر مجھے کشتی سے نکال دیا جائےتو کشتی اس مصیبت سے نکل سکتی ہے سب لوگوں نے کیا کہ یہ کوئی فرشتہ صفت انسان معلوم ہوتا ہے جس نے اپنی غلطی کے بارے میں بتا دیا ہے ہم اس طرح اس کو کشتی سے کیسے نکال سکتے ہیں کشتی میں سے کسی مسافر نے قرعہ اندازی کا مشورہ دیا اس طرح قرعہ ڈالا گیا پرچی میں حضرت یونس علیہ السلام کا نام نکلا لوگ اس بات سے مطمئن نہ ہوئے انہوں دوبارہ قرعہ ڈالا پھر آپ کا نام ہی نکلا اسی طرح دوبارہ قرعہ ڈالا گیا تو پھر آپ کا ہی نام نکلا حضرت یونس علیہ السلام نے کہا کہ میں اپنے رب کا نافرمان ہوں میرا رب بھی یہی چاہتا ہے کہ مجھے سمندر میں ڈال دو حضرت یونس علیہ السلام نے ملاح اور مسافروں سے بارہا کہا کہ انہیں سمندرمیں ڈال

دیں وہ سمندر میں کودنے کے لیے تیار ہیں اس لیے کہ انہوں نے اللّٰہ کے حکم کا انتظارنہیں کیا تھا آخر کار مسافر اور ملاح مان گئے اور آپ کو سمندر میں ڈال دیا سمندر میں ایک مچھلی حضرت یونس علیہ السلام کی طرف بڑھی اور آپ کو نگل لیا اللّٰہ تعالٰی نے مچھلی سے کہا کہ یہ تمہاری خوراک نہیں بلکہ امانت ہے جسے تم نے واپس کرنا ہےاسطرح حضرت یونس علیہ السلام اندھیر میں مچھلی کے پیٹ میں رہے اور اللّٰہ سے معافی مانگتے رہے آپ کہہ رہے تھے کہ:"اے اللّٰہ تیر ے سوا عبادت کے کوئی لائق نہیں تو پاک ہے بیشک میں نے ہی اپنے نفس پر ظلم کیا اور میں ظالموں میں سے ہوں" جب آپ مچھلی کےپیٹ سے باہر آئےتو آپ کافی کمزوراور نڈھال تھے آپ نے کھلی فضا میں سانس لیا اور اللّٰہ کا شکر ادا کیا اللّٰہ نے حضرت یونس علیہ السلام سے کہا کہ "اگر تو مچھلی کے پیٹ میں میری پاکی بیان نہ کرتا تو مچھلی کے پیٹ سے کبھی نجات حاصل نہ کرتا "جس جگہ پہ آپ کو مچھلی نے اگلا تھا وہاں شدید گرمی تھی اور دور دور تک کوئی سایہ نہ تھا اللّٰہ کے حکم سے وہاں ایک بیل والا پودا اگ آیا اور اس کا سایہ بن گیا اور آپ اس کے سائے کے نیچے بیٹھ گئے کہتے ہیں کہ وہاں ایک ہرنی آتی اور آپ کو دودھ پلا کر چلی جاتی آپ وہاں چھاؤں میں بیٹھ کراللّٰہ کاذکر کرتے رہتے-

اللّٰہ تعالٰی فرماتا ہے کہ"ہم نے بغیر گھاس کے زمین پر اسے ڈال دیا اور وہ بیمار تھا اور ہم نے وہاں بیل دار درخت اگا دیااور ہم نے ان کو ایک لاکھ آدمی کی طرف بھیج دیا

بلکہ اس سے بھی زیادہ اور پھر وہ لوگ ان پر ایمان لائے "

متعلقہ خبریں