آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی حضرت زینب رضی اللہ عنہا جب مکہ سے ہجرت کرکے (اونٹ پر سوار ہوکر) مدینہ منورہ کی جانب روانہ ہورہی تھیں

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی حضرت زینب رضی اللہ عنہا جب مکہ سے ہجرت کرکے (اونٹ پر سوار ہوکر) مدینہ منورہ کی جانب روانہ ہورہی تھیں

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی حضرت زینب رضی اللہ عنہا جب مکہ سے ہجرت کرکے ... 16 مئی 2018 (15:36) 3:36 PM, May 16, 2018

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی حضرت زینب رضی اللہ عنہا جب مکہ سے ہجرت کرکے (اونٹ پر سوار ہوکر) مدینہ منورہ کی جانب روانہ ہورہی تھیں، تو راستہ میں ہبار بن اسود نامی ایک شخص نے انہیں اتنی تیزی سی نیزہ مارا کہ وہ اونٹ سے گرپڑیں، حمل ساقط ہوگیا، اس صدمہ سے تاب نہ لاسکیں اور اللہ کو پیاری ہوگئیں، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب اس حادثہ کی خبر ہوئی تو آپ بہت غضب ناک ہوئے اور آپ کو اس بات سے بہت صدمہ ہوا، جب بھی اس حادثہ کی یاد تازہ ہوجاتی تو آب دیدہ ہوجاتے؛ لیکن جب ہبار بن اسود اسلام لے آئے اور معافی کی درخواست کی، توآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں معاف کردیا۔

وحشی بن حرب جن کی ذات سے اسلامی تاریخ کے تلخ ترین حادثہ کی یاد وابستہ ہے، کہ جنھوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے محبوب و مشفق چچا کو قتل کیاتھا؛ لیکن جب انھوں نے اسلام لاکر خدمت اقدس میں حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا اسلام تسلیم فرمالیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کے قتل کی کیفیت دریافت فرمائی، جب انھوں نے واقعہ بیان کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر گریہ طاری ہوگیااور فرمایا وحشی! تمہارا قصور معاف ہے؛ لیکن تم میرے سامنے نہ آیا کرو، تمہیں دیکھ کر پیارے شہید چچا کی یاد تازہ ہوجاتی ہے۔

متعلقہ خبریں