جب حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کیا تو ایک کافر کے غلام تھے جس کا نام اُمیہ بن خلف تھا وہ اسلام کا سخت دشمن تھا. حضرت بلال کو ان کے قبول اسلام کی وجہ سے سخت سزائیں دیتا کبھی آپ کو سخت گرمیں دوپہر کے وقت تپتی ریت پر سیدھا لٹا دیتا

جب حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کیا تو ایک کافر کے غلام تھے جس کا نام اُمیہ بن خلف تھا وہ اسلام کا سخت دشمن تھا. حضرت بلال کو ان کے قبول اسلام کی وجہ سے سخت سزائیں دیتا کبھی آپ کو سخت گرمیں دوپہر کے وقت تپتی ریت پر سیدھا لٹا دیتا

جب حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کیا تو ایک کافر کے غلام تھے جس کا نام ... 16 مئی 2018 (14:49) 2:49 PM, May 16, 2018

جب حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کیا تو ایک کافر کے غلام تھے جس کا نام اُمیہ بن خلف تھا وہ اسلام کا سخت دشمن تھا. حضرت بلال کو ان کے قبول اسلام کی وجہ سے سخت سزائیں دیتا کبھی آپ کو سخت گرمیں دوپہر کے وقت تپتی ریت پر سیدھا لٹا دیتا اور سینہ پر بھاری پتھر رکھ دیتا کہ آپ حرکت نہ کر سکیں اور کہتا اس حال میں مر جائیں یا زندگی چاہیں تو اسلام سے ہٹ جا ئیں مگر ان کی زبان اس حالت میں اللہ کے واحد ہونے کی گواہی دیتی اور انکی زبان سے احد احد نکلتا .رات کو زنجیروں میں باندھ کر کوڑے لگائے جاتے اور اگلے روز ان زخموں کو گرم زمین پر ڈال کر اور زخمی کیا جاتا ان کو کہتے تڑپ تڑپ کر مر جاؤ یا اسلام کو چھوڑ دو جب امیہ اکتا جاتا تو ابو جہل ان کو سزائیں دیتا . مگر ان کے سینہ مبارک سے اسلام کی روشنی نکالنے میں ناکام و نامراد رہے ان ظالموں کے دلوں می اسلام کے خلاف ایسا بغض بھرا ہوا تھا کہ ہر روز سخت ترین سزائیں دینے سے باز نہ آتے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے انکو ان ظالموں سے نجات دلوائی اور خرید کر حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو آزاد فرما دیا.

متعلقہ خبریں