عشق کب دیکھتا ہے کہ جان پر کیا بنی ہے؟عشق وینٹی لیٹر پر خدا کے ہاں نماز عشق ادا کروا دیتا ہے؟پڑھیۓ عشق و عزم کی لازوال داستان پڑھئے

عشق کب دیکھتا ہے کہ جان پر کیا بنی ہے؟عشق وینٹی لیٹر پر خدا کے ہاں نماز عشق ادا کروا دیتا ہے؟پڑھیۓ عشق و عزم کی لازوال داستان پڑھئے

عشق کب دیکھتا ہے کہ جان پر کیا بنی ہے؟عشق وینٹی لیٹر پر خدا کے ہاں نماز عشق ... 16 مئی 2018 (13:45) 1:45 PM, May 16, 2018

میں مغرب کی نماز پڑھ لیتی ہوں، پھر کھانا بھی بنانا ہے۔ نازیہ دل ہی دل میں سوچ رہی تھی۔

مغرب کی نماز پڑھ کر فارغ ہی ہوئی اور دُعا میں مشغول تھی کہ سُسر صاحب کی آواز آئی: نازیہ! بلڈ پریشر چیک کردو، ہائی معلوم ہورہا ہے.

دعا کرکے جائے نماز سمیٹا، مغرب کی نماز میں بھی کچھ دیر ہوچکی تھی، دوسری طرف کھانے کا وقت بھی قریب آرہا تھا، بڑے بیٹے اور بیٹی کے پیپرز بھی چل رہے تھے۔

مارچ میں موسم کی تبدیلی کی وجہ سے نازیہ کی طبیعت بھی کچھ خراب خراب سی تھی، دمہ کی پہلے سے شکایت تھی، بدلتا موسم اسلام آباد کے دمے اور الرجی کے مریض رہائشیوں کے لیے سوہانِ روح بن جایا کرتا ہے.

بلڈ پریشر چیک کرنے کے بعد نازیہ نے آپریٹس سمیٹا اور لاؤنج سے کچن کی طرف جانا شروع کیا کہ سانس اُکھڑنا شروع ہوگئی۔

بیٹی کو آواز دی کہ مجھے دمے کا اٹیک ہورہا ہے۔

سانسیں اس طرح پھنس رہی تھیں کہ سب کے اوسان خطا ہوگئے۔

بھاگم دوڑ ہسپتال لے جایا گیا، ہسپتال والوں نے بتایا کہ آکسیجن لیول خطرناک حد تک گرچکا ہے اور وینٹی لیٹر پر ڈالنے کی اشد ضرورت ہے۔

نازیہ نیم بے ہوش ہوچکی تھی.

ہسپتالوں سے وینٹی لیٹر فارغ ہونے کا پوچھتے پوچھتے وہ مکمل بے ہوش ہوچکی تھی، آکسیجن بھی لگی ہوئی تھی اور ایمبولینس میں ساتھ ساتھ ایمبو بیگنگ Ambu Bagging بھی کی جارہی تھی تاکہ سانس بحال ہوسکے، آکسیجن لیول Oxygen Saturation Level ستانوے فیصد پر پہنچ گیا جو بہتری کی نشانی تھی لیکن مریضہ کی حالت پھر بھی تسلی بخش نہ تھی۔

اسی ہنگامی حالت میں وینٹی لیٹر کے لیے ایک ہسپتال پہنچے تو ڈاکٹر حضرات نے تشخیص کی کہ مریضہ کو Tachycardia بھی ہے کہ دل کی دھڑکن نارمل رفتار سے زیادہ ہوچکی اور دل کا دورہ بھی پڑ چکا ہے۔

پھر وہاں سے دوسرے ہسپتال بھیج دیا گیا جہاں فوری طور پر مریضہ کو وینٹی لیٹر پر ڈال دیا گیا، مریضہ مکمل بے ہوش تھی.

کئی دن تو یہی حالت رہی، سب بہت پریشان تھے کہ معاملہ کافی بگڑ چکا تھا۔

پھر کچھ ٹیسٹ لیے گئے تو نتائج نے بہتری کی امید دلوائی۔

ایک دو دن بعد مریضہ ہوش میں آنا شروع ہوئی، پھر رفتہ رفتہ وینٹی لیٹرسےاتار دیا گیا اگرچہ آکسیجن پر رکھا گیا۔

پھر حالت بہتر ہونے پر وارڈ میں منتقل کردیا گیا۔

نازیہ اب ہوش میں تھی اور تھوڑی تھوڑی باتیں کررہی تھی اگرچہ آکسیجن سیلنڈر کا ساتھ تھا اور منہ پر سوجن بھی بہت زیادہ تھی۔

خوراک بھی این جی ٹیوب NG Tube کے ذریعے دی جارہی تھی.

کچھ دیر کے لیے تیمارداری پرموجود لوگ باہر نکلے، واپس آئے تو نازیہ نماز پڑھ رہی تھی۔

آکسیجن لگی ہوئی، این جی ٹیوب بھی موجود تھی اور وہ لیٹے ہوئے اشارے سے نماز پڑھنے میں مصروف تھی۔

سب کی آنکھیں حیرت سے کُھلی کی کُھلی رہ گئیں۔

نرس نے بتایا کہ ان کی درخواست پر میں نے انہیں وضو کروادیا تھا۔

جب نازیہ نے نماز مکمل کی تو گھر والوں کی شکل پر حیرت دیکھ کر مسکراتے ہوئے بولی: میں نے سوچا کہ عشاء کی نماز قضا نہ ہوجائے اس لیے نماز پڑھ لی۔

وارڈ کے اندر وہ ایسی حالت میں تھی کہ باہر دن کے اوقات سے بالکل لاتعلق تھی۔

اور اس وقت عشاء کا نہیں بلکہ ظہر کا وقت تھا.

لیکن نازیہ نے عشاء کی نماز کیوں پڑھی؟

جی اس لیے کہ وہ مغرب کی نماز پڑھنے کے بعد بے ہوش ہوئی تھی اور اس کا خیال تھا کہ ہوش آنے کے بعد ابھی عشاء کا وقت باقی ہوگا تو کیوں نہ جلدی سے پڑھ لی جائے۔

وہ اس بات سے ناواقف تھی کہ وہ سات آٹھ دن بیہوش رہی ہے اور اس کی جان کے لالے پڑے ہوئے تھے۔

اور آکسیجن اور خوراک کی نالی کی موجودگی بھی اُسے نماز سے نہ روک سکی۔۔۔۔

اور ہمارے پاس کیا عُذر ہے؟؟؟

کچھ لوگ یقیناً مخالف سمت بھی سوچیں گے کہ نازیہ کو اس حالت میں نماز نہیں پڑھنی چاہیے تھی۔

یہاں صرف عشق اور عادت کے رسوخ کے کٹہرے میں اس کا جواب ہے کہ

نازیہ کو یہ کرنا نہیں پڑا بلکہ اُس سے ہوگیا۔

وہ چاہتی بھی تو اُس سے نہ رہا جاتا۔

یہ کرنے سے ہونے کا سفر ملتا ہے مستقل قائم کرنے سے چاہے حالات موافق ہوں یا ناموافق، اللہ تعالیٰ کے حکم کی حقیقی قدر دل میں ہونے سے۔

اور اس سے مختلف، اُلٹ نظر آتا ہے ہر سُو کہ ہم چھوٹے چھوٹے اعذار میں اور بعض اوقات بغیر عذر کے بھی نماز چھوڑ دیتے ہیں۔

نازیہ کے لیے دعا ضرور کیجیے کہ ابھی بھی پسپتال میں داخل ہے لیکن ساتھ ساتھ اُس کی نماز کی عادت کے رسوخ سے ہمت پکڑیے۔

بلند ہمت والوں کے قصے سُننے سے انسان کو بلند ہمتی عطا ہوتی ہے.