فرعون کا بنی اسرائیل پر ظلم اور موسیٰ علیہ السلام کا صبر-پڑھئے ایمان افروز قصہ

فرعون کا بنی اسرائیل پر ظلم اور موسیٰ علیہ السلام کا صبر-پڑھئے ایمان افروز قصہ

فرعون کا بنی اسرائیل پر ظلم اور موسیٰ علیہ السلام کا صبر-پڑھئے ایمان افروز ... 16 مئی 2018 (00:00) 12:00 AM, May 16, 2018

جب مصر پر   فرعون کی اکڑ فوں کی وجہ سے بلاؤں پر بلائیں  ٹوٹ رہی تھیں - اور فرعون بالکل بے بس ہوا جاتا تھا تو اس کے درباریوں میں بے چینی پیدا ہوئی  اور ان کے وفد نے فرعون سے کہا:" کیا آپ موسیٰ اور اسکی قوم کو چھوڑے ہی رہیں گے تاکہ ملک میں خرابی پھیلاتے رہیں اور آپ سے منہ موڑ کر نئے خدا کا جھنڈا لہراتے پھریں "

آسمانی بلاؤں کا توڑ فرعون کے پاس  نہ تھا - االلّٰہ نے موسیٰ علیہ السلام کو وہ زور دے دیا تھا کہ فروعن ان کا بال بھی بیکا نہ کر سکتا تھا مگر اپنی بادشاہی اسے بچانی تھی -درباریں کو دلاسہ دینے کے لیے اور کیا کر سکتا تھا کہ یہودیوں پر پھر وہی ظلم جاری کر دے جو اس کے باپ رام سیس دوم نے ایجاد کیا تھا - چنانچہ درباریوں کی فریاد سن کر کہنے  لگا :"گھبراتے اور ڈرتے کیوں ہو اسرائیلی اب بھی ہمارے چنگل میں پھنسے ہوئے ہیں -ہم پھر ان کے لڑکوں کے گلے گھونٹنے کا کام جاری کر دیں گے -صرف لڑکی جینے دیں گے - اس طرح دیکھتے ہی ریکھتے ان کی نسل ختم ہو جائیگی -"

چنانچہ فرعون کے حکم سے یہودیوں کے لڑکوں کا پھر قتل عام شروع ہو گیا اس اندھیر پر یہودیوں کا چیخ اٹھنا قدرتی بات تھی -وہ حضرت موسٰی علیہ السلام سے بھی خفا ہو گئے اور کہنے لگے :"تجھ سے پہلے بھی ہم بری طرح ستائے گئے تھے اور تیرے آنے کے بعد بھی ستائے جا رہے ہیں "

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے انہیں ڈھارس دی اور کہا :"میری قوم والو!اللّٰہ سے مدد مانگو اور اپنے دل مضبوط رکھو یہ زمین آدمیوں کی نہیں ہے ,اللّٰہ کی ہے اور اللّٰہ ہی جسے چاہتا ہے زمین کا مالک بنا دیتا ہے -یہ کیا عیب ہے کہ تمہارا رب تمہارے دشمن کو مٹا ڈالےاور تمہیں زمین کی حکومت دے کر دیکھے , کیا کرتے ہو اور میری قوم کے لوگو!اگر تم واقعی اللّٰہ پر ایمان لا چکے ہو تو پھر اللّٰہ ہی پر بھروسہ رکھو "

یہ مؤثر تقریر سن کر یہودیوں نے کہا :"ہمارا بھروسہ اللّٰہ ہی پر ہے -اے ہمارے رب ظالموں کے ہاتھوں ہماری آزمائش نہ ہونے دے -بلکہ اپنی اپنی بے حساب رحمت سے ہمیں اس ناشکری قوم کے چنگل سے نکال لے -"

متعلقہ خبریں