افغانستان میں طالبان اور افغان فوج کے ایک مشترکہ اجتماع میں کار بم دھماکے نے تباہی مچادی۔بڑا جانی نقصان ہو گیا

افغانستان میں طالبان اور افغان فوج کے ایک مشترکہ اجتماع میں کار بم دھماکے نے تباہی مچادی۔بڑا جانی نقصان ہو گیا

افغانستان میں طالبان اور افغان فوج کے ایک مشترکہ اجتماع میں کار بم دھماکے نے ... 16 جون 2018 (21:33) 9:33 PM, June 16, 2018

افغانستان کے مشرقی صوبے ننگر ہار میں ہفتے کی شام طالبان اور سرکاری فوج کے ایک اجتماع میں کار بم دھماکے میں کم سے کم بیس افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے ہیں ۔خودکش بمبار نے اپنی بارود سے بھری کار کو ایسے وقت میں دھماکے سے اڑایا ہے جب افغان سکیورٹی فورسز اور طالبان جنگجوؤں کے درمیان عید الفطر کے موقع پر پہلی مرتبہ جنگ بندی جاری تھی اور وہ دارالحکومت کابل سمیت مختلف شہروں میں آپس میں گھل مل رہے تھے اور اپنے اپنے اسمارٹ فونز میں یہ خوش گوار مناظر سیلفیوں کی شکل میں محفوظ کررہے تھے۔صوبہ ننگر ہار کے گورنر کے ترجمان عطاء اللہ خوجیانی نے طورخم اور جلال آباد کے درمیان شاہراہ پر واقع قصبے غازی امین اللہ میں اس کار بم دھماکے کی تصدیق کی ہے۔انھوں نے پہلے یہ کہا تھا کہ دھماکا راکٹ گرینیڈ کے پھٹنے سے ہوا ہے۔فوری طور پر کسی گروپ نے اس کار بم دھماکے کی ذمے داری قبول نہیں کی ہے۔

یاد رہیکہ افغان طالبان نے صدر اشرف غنی کی عید الفطر کے موقع ایک ہفتے کے لیے جنگ بندی کے اعلان کے دوروز بعد اپنا ایک بیان جاری کیا تھا اور اس میں خبردار کیا کہ اگر طالبان جنگجوؤں پر کوئی حملہ کیا گیا تو اس کا بھرپور دفا ع کیا جائے گا۔اکتوبر 2001ء میں امریکا کی افغانستان پر فوجی چڑھائی کے بعد طالبان نے پہلی مرتبہ جنگ بندی کی ہے۔ طالبان نے ہفتے کے روز وٹس ایپ کے ذریعے بھیجے گئے ایک پیغام میں کہا ہے کہ ’’تمام مجاہدین کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ عید الفطر کے پہلے تین روز کے دوران میں افغان فورسز کے خلاف اپنی جارحانہ کارروائیاں بند کردیں لیکن مجاہدین پر حملہ کیا گیا تو ہم شدت سے اس کا دفاع کریں گے‘‘۔ طالبان نے مزید کہا کہ ’’ جنگجوؤں کو بھیجے گئے پیغام میں غیر ملکی افواج پر لاگو نہیں ۔ ان کے خلاف کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی۔ہم جہاں کہیں انھیں دیکھیں گے،ان پر حملے کریں گے‘‘۔

متعلقہ خبریں