پیپلز پارٹی،پی ٹی آئی اور ن لیگ کی موروثی سیاست کی داستان

پیپلز پارٹی،پی ٹی آئی اور ن لیگ کی موروثی سیاست کی داستان

پیپلز پارٹی،پی ٹی آئی اور ن لیگ کی موروثی سیاست کی داستان 16 جون 2018 (11:53) 11:53 AM, June 16, 2018

موروثی سیاست ہر بڑی پارٹی کا خاصہ رہی ہے۔ہر جماعت موروثی سیاست کو ختم کرنے کا دعوی کرتی آئی ہے۔لیکن صورتحال یہ ہیکہ

پیپلز پارٹی

سندھ کی موروثی سیاست میں بھٹو خاندان کا نام نمایاں ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو کی شہادت کے بعدان کی اہلیہ نصرت بھٹو نے پارٹی سنبھالی جس کے بعد ان کی بیٹی بے نظیر بھٹو آگے آئیں اور دو بار وزیراعظم رہیں۔بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد ان کے شوہر آصف زرداری آگے آئے، صدر رہے اور پھر بیٹے بلاول کو پارٹی کی ذمہ داریاں مل گئیں۔

آصف زرداری نے اپنی دو بہنوں فریال تالپور اور عذرا پیچوہو کیبھی سیاست میں انٹری کروائی جو رکن قومی اسمبلی رہیں۔فریال تالپور کے شوہر میر منور بھی رکن پارلیمنٹ رہے۔

پیپلز پارٹی 2018 میں اپنی مخصوص روایتی مؤروثی سیاست سے باہر نہ نکل سکی . پیپلز پارٹی کی الیکشن میں مخصوص نشستوں کیلئے آصف علی زرداری کی بہنیں سرِ فہرست ہیں .پہلا نام فریال کا ہے جبکہ دوسرا نام عذرا بیچوہو کا ہے. آصف علی زرداری کی دونوں بہنوں کے نام جنرل نشستوں میں بھی ہے جس میں فرہال تالپور لاڑکانہ سے الیکشن لڑیں گی اور عذرا بیچو نواب شاہ سے الیکشن میں حصہ لے رہی ہیں .ایک ہی وقت میں یہ دونوں خواتین جنرل انتخابات لڑیں گی اور خواتین کی مخصوص نشستوں میں بھی ان دونوں کے نام سرِ فہرست ہیں .بلاول بھٹو زرداری اور آصف زرادری بھی الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں .آصف علی زرداری کی بہنوں کو صوبائی جنرل نشستوں کیلئے ٹکٹ پہلے ہی جاری کئے جا چُکے تھے .

پی ٹی آئی

تحریک انصاف بھی پیچھے نہیں رہی۔ پرویز خٹک نے خیبرپختونخوا کی کمان سنبھالی تو ان کےداماد عمران خٹک نے نوشہرہ سے ، بھابھی نفیسہ خٹک اور بھائی کی بیٹی ساجدہ بیگم نے بھی قومی اسمبلی کی نشست حاصل کی ۔پرویز خٹک کے بھائی لیاقت خٹک نوشہرہ ضلع کے ناظم ہیں جبکہ بھتیجے احد خٹک تحصیل ناظم ہیں۔

اخباری رپورٹ کے مطابق پاکستان تحریک انصاف نے کئی حلقوں میں باپ بیٹا، بھتیجے ، سگے بھائیوں اور رشتے داروں کو بھی ٹکٹ سے نواز دیا۔ قومی اسمبلی کے حلقہ 101 سے ذوالقرنین ساہی کے ساتھ صوبائی حلقے پی پی 97 سے علی افضل ساہی اور ان کے والد افضل ساہی کو، پی پی 99 سے چودھری علی اختر خان جبکہ بڑے بھائی چودھری ظہیر الدین خان کو پی پی 100 سے ٹکٹ جاری کیا گیا۔اسکے علاوہ ایوب خاندان میں عمر ایوب خان،اکبر ایوب اور ارشد ایوب کو ٹکٹ جاری کرنے کا امکان ہے۔اسی طرح سردار دلدار احمد چیمہ کو قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 104 جبکہ ان کے بیٹے دلنواز چیمہ کو صوبائی حلقہ پی پی 106 سے ٹکٹ جاری کیا گیا ہے۔دادو میں جتوئی خاندان کو چار ٹکٹس دئے گئے۔ این اے 234 سے لیاقت جتوئی، این اے 235 سے لیاقت جتوئی کے سگے بیٹے کریم خان جتوئی، پی ایس 83 سے لیاقت جتوئی کے سگے بھائی احسان علی جتوئی اور پی ایس 84 سے لیاقت جتوئی کے ایک اور سگے بھائی صداقت جتوئی کو ٹکٹ جاری کیا گیا۔یہی نہیں بلکہ پارٹی کے وائس چئیرمین شاہ محمود قریشی بھی اپنے بیٹے کو پارٹی ٹکٹ دلوانے میں کامیاب رہے۔ پی ٹی آئی جو موروثی سیاست کی ہمیشہ سے مخالفت کرتی آئی ہے اب خود ہی موروثی سیاست کو فروغ بھی دے رہی ہے، اقربا پروری اور رشتہ داروں کو ٹکٹ دینے کے معاملے پر پی ٹی آئی کو سخت تنقید کا سامنا ہے۔

ن لیگ

پاکستان میں موروثی سیاست کے حوالے سے شریف فیملی کی بات کی جائے تونوازشریف سابق وزیراعظم رہے۔ ان کی بیٹی مریم نواز سیاست سے وابستگی نہ ہونے کے باوجود یوتھ لون اسکیم کی چئیرپرسن رہیں۔نواز شریف کے بھائی شہبازشریف وزیراعلیٰ پنجاب رہے، اہلیہ کلثوم نواز،بھتیجا حمزہ شہباز،داماد کیپٹن صفدرممبر قومی اسمبلی ہیں۔قریبی رشتہ دارعابد شیرعلی کو وزارت بھی ملی جبکہ سمدھی اسحاق ڈاروزیرخزانہ رہنے کے ساتھ ساتھ سینیٹر بن گئے۔

متعلقہ خبریں