افغان صدر اشرف غنی کا نگراں وزیر اعظم ناصر الملک اور آرمی چیف کو ٹیلی فون۔اے پی ایس حملے کے ماسٹر مائینڈ ملا فضل اللہ کے مارے جانے کی تصدیق

افغان صدر اشرف غنی کا نگراں وزیر اعظم ناصر الملک اور آرمی چیف کو ٹیلی فون۔اے پی ایس حملے کے ماسٹر مائینڈ ملا فضل اللہ کے مارے جانے کی تصدیق

افغان صدر اشرف غنی کا نگراں وزیر اعظم ناصر الملک اور آرمی چیف کو ٹیلی فون۔اے ... 16 جون 2018 (05:36) 5:36 AM, June 16, 2018

کابل: ملا فضل اللہ کی ہلاکت سے متعلق افغان صدر اشرف غنی نے نگراں وزیر اعظم ناصر الملک سے رابطہ کیا اور تفصیلات سے آگاہ کیا۔تفصیلات کے مطابق نگراں وزیر اعظم ناصرالملک اور افغان صدر اشرف غنی کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا جس میں افغان صدر نے افغانستان میں سیز فائر معاہدے کے بعد کی صورت حال سے بھی آگاہ کیا۔اس موقع پر نگراں وزیر اعظم ناصر الملک نے کہا کہ ملا فضل اللہ کی ہلاکت دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اہم پیشرفت ہے، ملا فضل اللہ کی ہلاکت سے کئی خاندانوں کو انصاف مل گیا۔

اس سے قبل پاک فوج کے ترجمان ڈی جی آئی ایس پی آر نے تحریک طالبان کے دہشت گرد ملا فضل اللہ کی امریکی ڈرون حملے میں ہلاکت کی تصدیق کردی۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) سے جاری بیان کے مطابق آرمی چیف کو افغان صدراشرف غنی نے ٹیلی فون کیا جس میں انہوں نے افغان صوبے کنٹر میں ہونے والے ڈرون حملے سے متعلق معلومات فراہم کیں۔آئی ایس پی آر کے مطابق افغان صدرنےآرمی چیف کوملافضل اللہ کی ہلاکت سےمتعلق آگاہ کیا، امریکی ڈرون حملے میں تحریک طالبان کے دہشت گرد کے مرنے کی تصدیق ہوگئی۔

یاد رہیکہ طالبان کمانڈر ملا فضل اللہ کی ہلاکت کی تصدیق ہوگئی ہے۔ افغانستان کی وزارت دفاع نے ملا فضل اللہ کے مارے جانے کی تصدیق کردی ۔بی بی سی کے مطابق، فضل اللہ کی ہلاکت کی تصدیق افغان وزارت دفاع نے کی ہے۔ افغان وزارت دفاع کے مطابق، فضل اللہ تیرہ جون کو کنڑ میں امریکی ڈرون حملے میں مارا گیا۔امریکا نے فضل اللہ کے سر کی قیمت 50 لاکھ ڈالر مقرر کی تھی۔

یاد رہیکہ افغانستان کے علاقے کنٹر میں ڈرون حملے کے نتیجے میں طالبان رہنما ملا فضل اللہ کے ہلاک ہونے کی غیرمصدقہ اطلاعات ملی تھیں ۔ امریکی نشریاتی ادارے وائس آف امریکا کی رپورٹ کے مطابق امریکی اور مقامی حکام اس خبر کی تصدیق کررہے ہیں۔ایک امریکی اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ 13 جون کو ہونے والے ڈرون حملہ کا ہدف ملا فضل اللہ تھے۔ افغانستان میں امریکی فوج کے ترجمان لیفٹینینٹ کرنل مارٹن او ڈونل کے وائس آف امریکا کو بتایا کہ 13 جون کو امریکی فورسز نے صوبہ کنٹر میں ایک حملہ کیا گیا جس میں ایک دہشت گرد تنظیم کے سینئر رہنما کو نشانہ بنایا گیا۔تاہم ترجمان نے یہ واضح نہیں کیا کہ اس حملے کا ہدف ملا فضل اللہ ہی تھے۔پینٹا گان حکام نے ڈرون حملہ کامیاب رہا یا نہیں اس پر تبصرے سے انکار کر دیا ہے۔لیکن افغان وزارت دفاع کے مطابق، فضل اللہ تیرہ جون کو کنڑ میں امریکی ڈرون حملے میں مارا گیا۔امریکا نے فضل اللہ کے سر کی قیمت 50 لاکھ ڈالر مقرر کی تھی۔

متعلقہ خبریں