عراق میں بے روزگاری کی بلند شرح، حکومت کی جانب سے سہولتوں کی عدم فراہمی اور بدعنوانی کے خلاف مظاہر ے زور پکڑ گئے

عراق میں بے روزگاری کی بلند شرح، حکومت کی جانب سے سہولتوں کی عدم فراہمی اور بدعنوانی کے خلاف مظاہر ے زور پکڑ گئے

عراق میں بے روزگاری کی بلند شرح، حکومت کی جانب سے سہولتوں کی عدم فراہمی اور ... 16 جولائی 2018 (17:04) 5:04 PM, July 16, 2018

عراق میں بے روزگاری کی بلند شرح، حکومت کی جانب سے سہولتوں کی عدم فراہمی اور بدعنوانی کے خلاف مظاہروں کا حالیہ سلسلہ بصرہ سے شروع ہوا تھا جو بغداد، نجف، عمارہ اور نصیریہ سمیت کئی شہروں تک پھیل گیا ہے۔

مظاہرین کی جانب سے سرکاری املاک پر حملے اور پرتشدد کارروائیوں کے بعد ہفتے کو وزیرِ اعظم حیدرالعبادی نے سلامتی کونسل کا اجلاس طلب کیا تھا جس میں ملک میں امن و امان کی صورتِ حال کا جائزہ لیا گیا۔اجلاس کے بعد جاری ہونے والے ایک بیان میں وزیرِ اعظم العبادی نے کہا ہے کہ شرپسند پرامن مظاہروں کی آڑ میں سرکاری اور نجی املاک پر حملے کر رہے ہیں جن کےخلاف سرکاری فورسز تمام ضروری اقدامات کریں گی۔ہفتے کو عمارہ میں ہونے والے مظاہروں کے دوران دو افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ حکام کے مطابق مظاہرین نے سڑکیں بند کرکے ٹائروں کا آگ لگائی جب کہ بعض مشتعل افراد نے اندھا دھند فائرنگ بھی کی ۔اس سے قبل میسان نامی شہر میں سرکاری عمارتوں کو نذرِ آتش کرنے کی کوشش کرنے والے مظاہرین پر سکیورٹی اہلکاروں کی فائرنگ سے ایک شخص ہلاک ہوگیا تھا۔نجف میں سکیورٹی کی بگڑتی ہوئی صورتِ حال کے باعث شہر میں سکیورٹی فورسز کے اضافی دستے تعینات کردیے گئے ہیں۔بغداد، نجف اور بصرہ میں انٹرنیٹ سروس بھی معطل کردی گئی ہے تاکہ مظاہروں اور ان کے نتیجے میں جنم لینے والی افواہوں کو روکا جاسکے۔مظاہروں کا سلسلہ رواں ہفتے بصرہ سے شروع ہوا تھا جو عراق میں سب سے زیادہ تیل پیدا کرنے والا علاقہ ہے۔بصرہ کو عراقی کی پارلیمان نے اپریل 2017ء میں ملک کا معاشی مرکز قرار دیا تھا۔ لیکن کئی آئل ریفائنریوں کی موجودگی کے باوجود علاقے میں بہت غربت ہے اور شہر میں بنیادی سہولتوں کا فقدان ہے۔

متعلقہ خبریں