برآمدات میں کمی اور درآمدات میں مسلسل اضافے کی وجہ سے پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 16 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔ اسٹیٹ بینک

برآمدات میں کمی اور درآمدات میں مسلسل اضافے کی وجہ سے پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 16 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔ اسٹیٹ بینک

برآمدات میں کمی اور درآمدات میں مسلسل اضافے کی وجہ سے پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ ... 16 جولائی 2018 (16:25) 4:25 PM, July 16, 2018

پاکستان کے اسٹیٹ بینک نے کہا ہے کہ برآمدات میں کمی اور درآمدات میں مسلسل اضافے کی وجہ سے پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 16 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔

یہ بات اسٹیٹ بنک کی طرف سے آئندہ دو ماہ کے لیے جاری ہونے والی بنک کی مانیٹری پالیسی میں بتائی گئی ہے۔ اسٹیٹ بنک کے گورنر آصف باجوہ نے ہفتے کو کراچی میں ایک نیوز کانفرنس کے دوران اس پالیسی کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ اگرچہ حالیہ مہینوں میں ملک کی برآمدت اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی طرف سے ترسیل زر میں اضافے کے باوجود ملک کی بڑھتی ہوئی درآمدات کی وجہ سے ملک کے تجارتی خسارے کو کنڑول کرنا ایک چیلنج بنتا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا "مالی سال 2018ء میں مالی خسارے کا عبوری تخمینہ 6.8 فیصد لگایا گیا تھا۔ تاہم جولائی 2017ء سے مئی 2008ء تک کے گیارہ مہینوں کے درمیان کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بڑھ کر 16 ارب 20 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا ہے جو کہ گزشتہ برس کی اسی مدت میں11 ارب 10 کروڑ ڈالر تھا۔"آصف باجوہ نے مزید کہا کہ گزشتہ مالی سال کے پہلے 11 ماہ کے دوران برآمدات میں 13.2 فیصد اضافہ ہوا اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی طرف سے ترسیلات زر میں تین فیصد اضافے کے باوجود درآمدات میں اضافے کی وجہ سے غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ میں اضافہ ہوتا رہا۔انہوں نے مزید کہا کہ "پاکستان نے مالی سال 2018 ء میں شرح نمو 5.8 تک پہنچ گئی جو گزشتہ 13 برس کے دوران بلند ترین شطح ہے جبکہ صارفین کیلئے افراط زر 6 فیصد سے کم ہونے کے باوجود پاکستانی کی معیشت کو درپیش چیلنجوں میں شدت آئی ہے۔"پاکستان میں تجارتی اور معاشی امور سے متعلق غیر سرکاری ادارے پاکستان بزنس کونسل کے سربراہ احسان ملک وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے یہ بتا چکے ہیں کہ اس کی بڑی وجہ حالیہ سالوں میں پاکستان میں بڑی تعداد میں مشنری کی درآمد ہے جس سے پاکستان کی غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی واقع ہو رہی ہے۔

متعلقہ خبریں