زُلفی بُخاری کی درخواست پر وزیرِ داخلہ کے سیکشن آفیسر ای سی ایل کو عدالت طلب

زُلفی بُخاری کی درخواست پر وزیرِ داخلہ کے سیکشن آفیسر ای سی ایل کو عدالت طلب

زُلفی بُخاری کی درخواست پر وزیرِ داخلہ کے سیکشن آفیسر ای سی ایل کو عدالت ... 15 جون 2018 (21:02) 9:02 PM, June 15, 2018

اسلام آباد ہائیکورٹ نے زُلفی بُخاری کی درخواست پر وزیرِ داخلہ کے سیکشن آفیسر ای سی ایل کو عدالت میں طلب کر لیا ہے . 21 جون کو دیگر فریقین کے نوٹسز جاری کر دئیے گئے ہیں . اس کیس کی سماعت صابر فاروق نے کی تھی اور زُلفی بُخاری کی جانب سے وکیل اسکندر حفیظ میمن پیش ہوئے ,ُزلفی بُخاری کے وکیل نے مؤقف اپنایا کہ سفری پابندیاں اس طرح سے نہیں لگائی جا سکتیں یہ آئیں کے آرٹیکل 9,10 کی خلاف ورزی ہے . اُنھوں نے مزید کہا کہ میرے مؤکل عُمرہ ادائیگی کیلئے جا رہے تھے اُن کا نام ای سی ایل میں ڈالا گیا یہ بھی قانون کے خلاف تھا اور اس کے بعد اُن کو 6 دن کا استثنا دیا گیا عدالت نے دونوں فریقین کے دلائل سُننے کے بعد نوٹسس جاری کر دئیے ہیں . وزارت داخلہ کے جتنے بھی افراد ہیں اُن کو عدالت طلب کر لیا گیا ہے ۔

واضح رہیکہ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کے قریبی ساتھی زلفی بخاری نے کہا ہے کہ دو تین دن سے میرے خلاف جھوٹا پروپیگنڈا کیا گیا، مجھے باہر بھجوانے کے لیے عمران خان نے کسی کو فون نہیں کیا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا، زلفی بخاری نے کہا ہے کہ میرا نام ای سی ایل میں نہیں بلیک لسٹ میں تھا، بلیک لسٹ میں نام ہونے کا مجھ سمیت کسی آفیشل کو علم نہ تھا، ایئرپورٹ پہنچا تو مجھے اس بارے میں علم ہوا۔میرا حسن اور حسین نواز سے موازنا نہ کیا جائے، لندن نہیں بھاگا، واپس آیا ہوں اور کہیں نہیں جارہا ہے۔

زلفی بخاری کے مطابق پی ٹی آئی کے خلاف سازش کی جارہی ہے، مجھے باقاعدہ چھ دن کے لیے باہر جانے کی اجازت دی گئی تین دن میں واپس آگیا، میرا حسن اور حسین نواز سے موازنا نہ کیا جائے، لندن نہیں بھاگا، واپس آیا ہوں اور کہیں نہیں جارہا۔ زلفی بخاری نے کہا کہ پاناما لیکس میں نام آنے پر میری کمپنیوں کی انکوائری ہوئی، میں نے پاکستان میں کام کبھی نہیں کیا، سار اکام لندن میں ہی کیا ہے۔

اس سے قبل نجی ٹی وی چینل پر اپنے پروگرام میں معروف اینکر کامران شاہد نے پی ٹی آئی چئیرمین عمران خان کے قریبی دوست زلفی بخاری سے سوال کیا کہ آپ نے چارٹرڈ طیارے سے متعلق تو کلئجیر کر دیا کہ وہ آپ کا نہیں بلکہ علیم خان کا طیارہ تھا ، آپ کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ آپ عمران خان کی مالی مدد کرتے ہیں، ایک جہانگیر ترین ہیں اور ایک آپ ہیں، جو عمران خان کو مالی طور پر سپورٹ کرتے ہیں تو کیا یہ بات صحیح ہے؟ جس پر زلفی بخاری نے جواب دیا کہ نہیں یہ بات بالکل غلط ہے ، عمران خان کو جتنی فنڈنگ باہر سے آتی ہے کسی اور کو اتنی فنڈنگ نہیں آتی ، میں عمران خان کے لیے اور پارٹی کے لیے جتنا کر سکتا ہوں ، کر تا ہوں، پھر چاہے وہ سیاسی فنڈ ہو یا عطیہ ہو۔ زلفی بخاری نے کہا کہ میں عمران خان کے نظریے، عقائد اور مقصد کو سپورٹ کرتا ہوں، اور اس میں مجھے سمجھ نہی آتی کہ بُری بات کیا ہے؟ اگر میں سب کے ساتھ رہ کرسب کو فنڈز دوں تو پھر وہ صحیح ہے لیکن اگر میں نے خود سے فیصلہ کر لیا ہے کہ میں نے ایک شخص کے پیچھے چلنا ہے تو وہ غلط ہے؟ ایسا کیوں ہے؟ زلفی بخاری کا نام ہنگامی بنیاد پر بلیک لسٹ سے نکلوانے اور ساتھ لے جانے پر عمران خان کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا جس پر زلفی بخاری نے خود میدان میں اُتر کر تمام سوالات کے جواب دینے کا فیصلہ کیا۔

عمران خان کے دوست زلفی بخاری نے کہا ہے کہ ان کا نام ای سی ایل میں شامل نہیں تھا، عمران خان نے بھی کسی کو کوئی کال نہیں کی ، جس طیارے پر عمرے کی ادائیگی کیلئے سعودی عرب گئے وہ بھی ان کے بجائے عبدالعلیم خان کا تھا۔نجی ٹی وی کے پروگرام میں خصوصی گفتگو کرتے ہوئے زلفی بخاری نے کہا کہ بلیک لسٹ کا کوئی قانون موجود نہیں، مجھے نہیں پتہ تھا کہ میرا نام بلیک لسٹ میں ہے ۔ایف آئی اے سے پوچھا جائے کہ انہوں نے میرا نام کیوں ڈالا، میری ذات پر گزشتہ تین روز سے تنقید کی جا رہی ہے اور سوشل میڈیا پر بھی تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔ زلفی بخاری نے بتایا کہ ان کی 6 آف شور کمپنیاں تھیں جس کے حوالے سے نیب کی جانب سے تحقیقات کی جا رہی ہے تاہم مجھ پر کرپشن کا الزام غلط ہے ۔ میں نے نیب کے ساتھ ہر لحاظ سے تعاون کیا ہے ۔ عمران خان کے ساتھ اپنی دیرینہ دوستی پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ میں 2012ء سے عمران خان کو جانتا ہوں، وہ مجھے اپنے چھوٹے بھائیوں کی طرح سمجھتے ہیں، میں عمران خان کی شخصیت اور سوچ سے بے حد متاثر ہوں۔ریحام خان کی کتاب پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ جھوٹ کا پلندہ اور پڑھنے کے قابل نہیں ہے ، انھیں ہندوستانیوں کے سوائے کوئی سننے کیلئے تیار نہیں ہے ، انہوں نے عمران خان کی سابقہ اہلیہ کی حیثیت سے جو عزت بنائی تھی، اب اسے بھی گنوا چکی ہیں۔

متعلقہ خبریں