پانامہ کیس کی شفافیت پر بھی 7 سوالات اُٹھادئیے گئے ۔

پانامہ کیس کی شفافیت پر بھی 7 سوالات اُٹھادئیے گئے ۔

پانامہ کیس کی شفافیت پر بھی 7 سوالات اُٹھادئیے گئے ۔ 15 جون 2018 (02:44) 2:44 AM, June 15, 2018

شیخ رشید انتخابات میں حصہ لے سکتے ہیں سُپریم کورٹ نے جسٹس شیخ عزمت کی سربراہی میں تین رُکنی بینچ 2/1 کے تناسب سے فیصلہ سُنایا تھا .جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اختلافی نوٹ لکھا جسمیں پانامہ کیس کی شفافیت پر بھی 7 سوالات اُٹھائے گئے غلطی یا کوتاہی نااہلی ہوتی ہے . 1. کیا کاغذاتِ نامزدگی میں ہر غلط بیا نی کرنے یا کُچھ چھپانے پر نااہلی ہو سکتی ہے .2. عدالتی کاروائی کے دوران غلط بیانی کو ناہلی کلئے غور فکر لایا جا سکتا ہے . 3.کیا سُپریم کورٹ کے براہ راست اختیار سماعت کے ذریعے الیکشن ٹربیونل کا اختیار بھی استعمال.یا جا سکتا ہے 4. کسی شخص کی انتخابی عُذرداری کو عوامی مُفاد کا معاملہ قرار دیا جا سکتا ہے .5.آرٹیکل.25 امتخابی تنازعات میں 3/184 کا اطلاق ہو سکتا ہے .6. کیا 3/184 می آرٹیکل62 ون ایف کے تحت نااہل کیا جا سکتا ہے .7. آرٹیکل 62 ون ایف کورٹ آف لاٍٍٍ بھی میں سپریم کورٹ بھی شامل ہے.جسٹس قاضی فائز نے مطالبہ کیا ہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان ایک رُکنی بینچ تشکیل دیں اور ان 7 سوالات کا جوابات دئیے جائیں. شیخ رشید کی اہل قرار دینے کے بعد جسٹس فائز عیسیٰ نے 27 رُکنی بینچ پر مُشتمل اختلافی نوٹ لکھ دیا ہے . اختلافی نوٹ میں لکھا کہ کارکن کی اہلیت جانچنے کیلئے سخت اُصولوں پروضع کئے گئے .نواز شریف کے خلاف پانامہ کیس میں عدالتی نظیروں کو نظر اندا, کرنے کی وجوہات نہیں بتائی گئی .

متعلقہ خبریں