جتنے نوجوان مارتے ہیں، ان سے زیادہ تحریکِ آزادی میں شامل ہو جاتے ہیں۔ کشمیریوں کے لہو نے آخر کار بھارتی آرمی چیف کو مذاکرات کی بات کہنے پر مجبور کر دیا۔

جتنے نوجوان مارتے ہیں، ان سے زیادہ تحریکِ آزادی میں شامل ہو جاتے ہیں۔ کشمیریوں کے لہو نے آخر کار بھارتی آرمی چیف کو مذاکرات کی بات کہنے پر مجبور کر دیا۔

جتنے نوجوان مارتے ہیں، ان سے زیادہ تحریکِ آزادی میں شامل ہو جاتے ہیں۔ ... 14 جون 2018 (18:12) 6:12 PM, June 14, 2018

نئی دہلی: بھارتی آرمی چیف نے مقبوضہ کشمیر میں ناکامی کا اعتراف کرلیا، جتنے نوجوان مارتے ہیں، ان سے زیادہ تحریکِ آزادی میں شامل ہو جاتے ہیں۔ کشمیریوں کا خون رنگ لانے لگا ہے اور آخر کار بھارتی آرمی چیف جنرل بپن راوت نے بھی اس بات کو مان لیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں امن کو ایک موقع ملنا چاہیے اور اس کے لیے مذاکرات نہایت ضروری ہیں۔

بھارتی آرمی چیف جنرل بپن راوت نے دی اکانومک ٹائمز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ وہ مقبوضہ کشمیر کے مسئلے کے حل کے لیے مذاکرات کی حمایت کرتے ہیں، انھوں نے کہا کہ کشمیر میں امن کو ایک موقع دینا چاہیے۔ انکا مزید کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں اس سلسلے کو روکنے کے لیے کچھ کرنا ضروری ہے۔ہم در اندازی پر قابو پاسکتے ہیں لیکن کشمیری نوجوانوں پر نہیں۔ مذاکرات بہت ضروری ہیں،کوشش کرکے دیکھنی چاہیے اور مقبوضہ کشمیر میں امن کو ایک موقع ضرور ملنا چاہیے۔ ہم کشمیر میں انھیں مار رہے ہیں اور ان کی تعداد میں مزید اضافہ ہوتا ہے، ان کا اشارہ مقبوضہ کشمیر میں جاری تحریک آزادی کی طرف تھا۔

متعلقہ خبریں