علا مہ محمد اقبا ل: قصوروار غریب الدیار ہوں .......لیکن ترا خرابہ فرشتے نہ کر سکے آباد

علا مہ محمد اقبا ل: قصوروار غریب الدیار ہوں .......لیکن ترا خرابہ فرشتے نہ کر سکے آباد

علا مہ محمد اقبا ل: قصوروار غریب الدیار ہوں .......لیکن ترا خرابہ فرشتے نہ کر ... 14 جون 2018 (16:35) 4:35 PM, June 14, 2018

اثر کرے نہ کرے سن تو لے مری فریاد

نہیں ہے داد کا طالب یہ بندۂ آزاد

یہ مشت خاک یہ صرصر یہ وسعت افلاک

کرم ہے یا کہ ستم تیری لذت ایجاد

ٹھہر سکا نہ ہوائے چمن میں خیمۂ گل

یہی ہے فصل بہاری یہی ہے باد مراد

قصوروار غریب الدیار ہوں لیکن

ترا خرابہ فرشتے نہ کر سکے آباد

مری جفا طلبی کو دعائیں دیتا ہے

وہ دشت سادہ وہ تیرا جہان بے بنیاد

خطر پسند طبیعت کو سازگار نہیں

وہ گلستاں کہ جہاں گھات میں نہ ہو صیاد

مقام شوق ترے قدسیوں کے بس کا نہیں

انہیں کا کام ہے یہ جن کے حوصلے ہیں زیاد

متعلقہ خبریں