ہم روس سے ایس 400 میزائل سسٹم شو پیس کے طور پر نہیں لے رہے ضرورت پڑی تو۔۔۔۔۔۔ ترکی کے صدر رجب طیب ایردوان کا اپنے ملک کے دشمنوں کوکھلا چیلنج

ہم روس سے ایس 400 میزائل سسٹم شو پیس کے طور پر نہیں لے رہے ضرورت پڑی تو۔۔۔۔۔۔ ترکی کے صدر رجب طیب ایردوان کا اپنے ملک کے دشمنوں کوکھلا چیلنج

ہم روس سے ایس 400 میزائل سسٹم شو پیس کے طور پر نہیں لے رہے ضرورت پڑی تو۔۔۔۔۔۔ ... 14 جون 2018 (13:18) 1:18 PM, June 14, 2018

انقرہ: ترکی کے صدررجب طیب ایردوان نے کہا ہے کہ ہم روس سے ایس 400 میزائل سسٹم گودام میں رکھنے کے لیے نہیں لے رہے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ضرورت پڑی تو طیارہ شکن میزائل سسٹم کا استعمال کریں گے۔انہوں نے یہ بات ٹی وی پروگرام میں گفت و شنید کرتے ہوئے کہی۔صدر طیب ایردوان نے کہا کہ ہم گزشتہ کئی سالوں سے امریکہ سے دفاعی نظام خریدنے کے خواہش مند رہے ہیں لیکن امریکہ کا ایک ہی جواب ہے کہ کانگریس اجازت نہیں دے رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس امریکی موقف سے ہمیں سخت تکلیف ہوئی ہے۔ترکی کے صدرنے کہا کہ ترکی دفاعی نظام کے لیے امریکہ پر انحصار نہیں کرے گا۔

اس سے قبل رجب طیب اُردگان کا استنبول میں شبِ قدر کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے آسٹریا کی 60 اماموں کی مُلک بدری اور مساجد کو بند کرنے پر آسٹرین حکومتی اقدامات پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ مُستقبل کی عالمی جنگ مُسلمانوں اور عیسائیوں کے درمیان ہو سکتی ہے . تُرکی کے صدر طیب اُردگان نے آسٹرین حکومت کے اس اقدام کو اسلام مُخالف اور نسل پرستانہ قرار دے دیا ہے . ذرائع کے مُطابق طیب اُردگان کا کہنا تھا کہ روہنگیا مُسلمانوں کی مُلک بدری اور آسٹریا میں مساجد کو بند کروا دیا جانا ایک ہی ذہنیت کے دو نام ہیں ۔

یاد رہیکہ آسٹریا نے کہا ہے کہ وہ ان مساجد کو بند کر دے گا اور ان سے منسلک اماموں کو ملک بدر کردے گا جو ترکی کی امدادپرکام کررہے ہیں۔ اس طرح آسٹریا مساجد کے 60 آئمہ کرام اور ان کے خاندان کے مجموعی طورپر 150 افراد کو ملک بدر کرنے کی منصوبہ بندی کررہا ہے۔شدت پسند جماعت ’فریڈم‘ کے ایک رکن کیکل نے بتایا جن افراد کو ملک بدر کیا جا رہا ہے ان میں ترکی کے فنڈ سے کام کرنے والے ساٹھ امام شامل ہیں۔ آسٹریا کے چانسلر سبیسچیئن کُرز کا کہنا تھا کہ اس اقدام کا مقصد ملک میں سیاسی اسلام کی بیخ کنی کرنا ہے۔حکام کے مطابق انھیں شک ہے کہ کچھ مساجد کا تعلق ترکی کے قوم پرستوں سے ہے۔مذکورہ مساجد میں سے کچھ کے بارے میں شبہہ ہے کہ ان کے ترک قوم پرستوں سے رابطے ہیں۔اس سال اپریل میں کچھ ایسی تصاویر منظر عام پر آئی تھیں جن میں ان مساجد میں کچھ بچوں کو فوجی وردی میں جنگ عظیم اوّل کے دوران گیلی پولی کی لڑائی کی ڈرامائی تشکیل میں حصہ لیتے ہوا دیکھا جا سکتا تھاترکی کے صدر کے دفتر نے آسٹریا کے اس اقدام کو 'اسلام مخالف، نسل پرستانہ اور متعصب' قرار دیا گیا ہے۔

متعلقہ خبریں