جہاں پر بجلی چوری کی جاتی ہے اور جہاں بجلی کے پیسے نہیں دیے جاتے وہاں حکومت نے بجلی کو نہیں۔۔۔۔۔بجلی چوروں کیلئے حکومت کی وارننگ

جہاں پر بجلی چوری کی جاتی ہے اور جہاں بجلی کے پیسے نہیں دیے جاتے وہاں حکومت نے بجلی کو نہیں۔۔۔۔۔بجلی چوروں کیلئے حکومت کی وارننگ

جہاں پر بجلی چوری کی جاتی ہے اور جہاں بجلی کے پیسے نہیں دیے جاتے وہاں حکومت نے ... 14 جون 2018 (00:32) 12:32 AM, June 14, 2018

نگران وفاقی وزیر سید علی ظفر نے بجلی کے بارے میں بریفنگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ :" وہاں جہاں پر بجلی چوری کی جاتی ہے اور جہاں بجلی کے پیسے نہیں دیے جاتے وہاں حکومت نے بجلی کو نہیں پہنچانا یہ پچھلے چار پانچ سال کا اصول ہے -ایک پانی سے بجلی بنتی ہے اور دوسرے ہیں پلانٹس جو کچھ گیس سے چلتے ہیں کچھ کوئلے سے وغیرہ وغیرہ , اب آپ سوچیں کہ آئیڈیل صورتحال ہے اور آپ کے ڈیموں میں پانی بھرا ہوا ہے بارشیں ہو رہیں اور پلانٹ بالکل صحیح کام کر رہے ہیں -ہمارے پاس تقریباً اٹھائیس ہزار میگا واٹ کی کیپیسٹی ہے -لیکن بدقسمتی سے ایسا ہوتا نہیں ہے - ہوتا یہ ہے کہ کچھ پلانٹس خراب ہوتے ہیں اور ان کو ٹھیک کیا جا رہا یوتا ہے کبھی ڈیموں میں پانی کم ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے آپ ابھی تک اٹھائیس ہزار میگا واٹ بجلی بنا سکتے ہیں -اس وقت جو ہم بجلی بنا رہے ہیں وہ بائیس سےتئیس ہزار میگا واٹ ہے اب بات آتی ہے کہ ہمیں کتنی بجلی ضرورت ہے اور بجلی ہمیں موسم کے حساب سے ضرورت ہوتی ہے ہمیں دسمبر میں سب سے کم بجلی ضرورت ہوتی ہے اور جون جولائی میں زیادہ ضرورت ہوتی ہے ابھی جون میں تئیس سے چوبیس ہزار میگا واٹ بجلی کی ضرورت ہوتی ہے -اب ہم بجلی بنا رہے ہیں اکیس سے بائیس ہزار میگا واٹ اور ہمیں ضرورت ہے تئیس سے چوبیس ہزار میگا واٹ اب دو ہزار میگا واٹ کا گیپ آجاتا ہے اب جو یہ گیپ ہے اس میں اتنی زیادہ لوڈشیڈنگ نہیں ہونی چاہیے - اب جو لوڈشیڈنگ شروع ہوئی ہے -وہ اٹھائیس مئی سے شروع ہوئی ہے دو جون سے شروع نہیں ہوئی ہے - اس کی وجہ یہ ہے کہ اس سال ڈیموں میں پانی پچھلے سالوں سے کم آیا ہے اب پانی سے جو بجلی اس دفعہ پیدا ہوئی ہے وہ تین ہزار میگا واٹ ہے اور ایسے ہر سال یہ چھ ہزار میگا واٹ ہوتی ہے - اب جس جگہ پانی والی بجلی جاتی ہے وہاں ہمیں دوسری جگہ سے بجلی دے کر پوری کرنی پڑی ایک وجہ تو یہ ہے اور دوسری وجہ یہ کہ پورٹ قاسم کے پلانٹ میں تھوڑی سی فنی خرابی آگئی تھی جس کی وجہ سے بجلی کی پیداوار کم ہو گئی تھی -تیرہ سو میگا واٹ یہاں سے بجلی کم ہوئی اور تیسری وجہ یہ ہے کہ بلوکی کا ایک پاور سٹیشن تھا اس کو ٹیسٹ کرنے کے لیے ہم نے مئی میں لگایا تھا نیا بنا ہے وہ ہزار میگا واٹ بجلی وہاں سے آتی تھی وہ بھی کم ہوگئی مئی کے آخر میں بند ہونے سے -یہ تین وجہ ہیں بجلی کی کمی کی - اب جو صورتحال ہے پانی کی وہ یہ ہے کہ اب ڈیموں میں پانی آ گیا ہے کچھ موسم اچھا ہوا ہے کچھ بارشیں ہوئی ہیں جس کی وجہ سے بجلی پانچ ہزار میگا واٹ بن رہی ہے - اور آگے اور زیادہ بنے گی -اب پورٹ قاسم میں جو خرابی تھی وہ بھی دور ہو گئی ہے اور وہ بھی تیرہ سو میگا واٹ نظام میں شامل ہو گئی ہے -اب یہ پندرہ جون سے بیس جون تک بجلی ضرورت کے مطابق پوری ہو جائے گی اور نئی آنے والی حکومت اس کو آگے لے کے چل سکے گی -اب ہم نے جتنی بجلی بنائی ہے اس کی تقسیم کا طریقہ کار ہے اس کو ہم بہتر نہیں کر سکے اور پچھلے چالیس سال سے ہم نے کوئی نیا ڈیم نہیں بنایا اس کے علاوہ ہماری کاشتکاری کا جو طریقہ کار ہے وہ بھی سو سال پرانا ہے یہ ساری گائیڈ لائنز ہم چھوڑ کے جائیں گے نئی آنے والی حکومت کے لیے -اب ہمارے مینڈیٹ میں ہے کہ ہم کسی پر کوئی الزام تراشی نہیں کریں گے نہ یہ ہماری پالیسی میں ہے نہ مینڈیٹ میں اور نہ مجھے یہ تہذیب سکھائی گئی ہے -جو حقائق اس سے پہلے تھے وہ ہیں اور اس کے بعد ہم ایک ائیڈ لائن چھوڑ جائیں گے -"

متعلقہ خبریں