سعودی عرب میں گاڑی کیبعد اب خواتین وہ چیز چلائیں گی جو پاکستان میں تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔

سعودی عرب میں گاڑی کیبعد اب خواتین وہ چیز چلائیں گی جو پاکستان میں تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔

سعودی عرب میں گاڑی کیبعد اب خواتین وہ چیز چلائیں گی جو پاکستان میں تصور بھی ... 13 جون 2018 (17:57) 5:57 PM, June 13, 2018

ریاض : سعودی عرب میں خواتین اب گاڑیوں کے بعد موٹر سائیکل بھی چلائیں گی۔ میڈیا رپورٹ کیمطابق ایک سال قبل تک سعودی خاتون کو چست جینز اور ہارلے ڈیوڈسن ٹی شرٹ پہنے ریاض سپورٹس سرکٹ میں موٹربائیکس چلاتے دیکھنے کا تصور کرنا بھی مشکل تھا تاہم 24 جون سے خواتین کے ڈرائیونگ کرنے پر عائد پابندی کے ختم ہونے سے قبل ہی کئی خواتین موٹرسائکلز سکھانے والے نجی ادارے (بائیکرز سکلز انسٹیٹیوٹ) میں ہر ہفتے داخلہ لے رہی ہیں تاکہ موٹر سائیکل چلانا سیکھ سکیں۔سعودی کابینہ نے منگل کی شام بعض قوانین کی منظوری دی ہے جن کا مقصد مملکت میں خواتین کی ڈرائیونگ کو منظّم کرنا ہے۔ خواتین کے گاڑی چلانے کی اجازت پر عمل درامد 24 جون سے شروع ہو جائے گا۔

قبل ازیں کابینہ نے ہدایت جاری کی ہے کہ ٹریفک کی خلاف ورزیوں کا ارتکاب کرنے والی خواتین کو مناسب حراستی مراکز تیار ہونے تک "گرلز کیئر فاؤنڈیشن" میں رکھا جائے گا۔کابینہ کے اجلاس کی صدارت خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے کی۔یاد رہیکہ کچھ روز قبل سعودی عرب میں کسی خاتون کو پہلے ڈرائیونگ لائسنس کا اجراء کیا تھا۔ سعودی حکام نے ایک خاتون کو کار چلانے کا اجازت نامہ جاری کردیا تھا۔سوموار کو لائسنس کے اجراء کی ایک ویڈیو انٹرنیٹ پر جاری ہوتے ہی وائرل ہوگئی ۔اس کے ساتھ ٹویٹ میں کہا گیا کہ ’’ سعودی عرب میں پہلے لائسنس کے اجراء پر مادر ِ وطن کی بیٹیاں ہزاروں مبارک بادیں قبول فرمائیں‘‘۔سعودی خواتین کو ڈرائیونگ لائسنس کے اجراء کے لیے گذشتہ ما ہ تاریخ کا ا علان کیا گیا تھا۔ وہ شاہی فرمان کے مطابق 24 جون سے از خود کاریں چلا سکیں گی۔محکمہ ٹریفک کے ڈائریکٹر جنرل محمد آل بسامی نے 8 مئی کو ایک بیان میں کہا تھا کہ ’’ خواتین کے کاریں چلانے کے لیے درکار تمام تقاضوں کو پورا کردیا گیا ہے اور 18 سال یا اس سے زائد عمر کی خواتین ڈرائیونگ لائسنس کے حصول کے لیے متعلقہ دفاتر میں درخواستیں دے سکتی ہیں‘‘۔

متعلقہ خبریں