خواجہ حیدر علی آتش:

خواجہ حیدر علی آتش:" بڑا شور سنتے تھے پہلو میں دل کا...... جو چیرا تو اک قطرہ خوں نہ نکلا

خواجہ حیدر علی آتش:" بڑا شور سنتے تھے پہلو میں دل کا...... جو چیرا تو اک قطرہ خوں ... 13 جون 2018 (12:28) 12:28 PM, June 13, 2018

کوئی عشق میں مجھ سے افزوں نہ نکلا

کبھی سامنے ہو کے مجنوں نہ نکلا

بڑا شور سنتے تھے پہلو میں دل کا

جو چیرا تو اک قطرہ خوں نہ نکلا

بجا کہتے آئے ہیں ہیچ اس کو شاعر

کمر کا کوئی ہم سے مضموں نہ نکلا

ہوا کون سا روز روشن نہ کالا

کب افسانہ زلف شب گوں نہ نکلا

پہنچتا اسے مصرع تازہ و تر

قد یار سا سرو موزوں نہ نکلا

رہا سال ہا سال جنگل میں آتش

مرے سامنے بید مجنوں نہ نکلا

متعلقہ خبریں