۔شیخ رشید احمد نااہلی سے بچ گئے

۔شیخ رشید احمد نااہلی سے بچ گئے

۔شیخ رشید احمد نااہلی سے بچ گئے 13 جون 2018 (11:33) 11:33 AM, June 13, 2018

اسلام آباد : سپریم کورٹ آف پاکستان نے عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید کی نا اہلی سے متعلق دائر درخواست پرفیصلہ سناتے ہوئے انہیں اہل قرار دے دیا۔ شیخ رشید احمد نااہلی سے بچ گئے ۔عدالت نے شیخ رشید احمد کوانتخابات میں حصہ لینےکی اجازت دےدی۔ انھوں نے عمران خان کے ساتھ مل کر حکومت بنانےکی خواہش کااظہار بھی کردیا۔

تفصیلات کے مطابق نااہلی فیصلے کے بعد شیخ رشید نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "اللہ تعالیٰ نے آج مجھے عزت دی ہے ، میں نے کوئی غلط کام نہیں کیا تھا، میں راولپنڈی کا ہوں اور ساری دولت راولپنڈی میں ہے ۔اگر آج میرے خلاف فیصلہ آتا تو میں قبول کرلیتا ،میں نواز شریف نہیں ہوں ، انہوں نے مزید کہا کہ " میاں برادران میں آرہاہوں "۔ جو میری سیاسی موت دیکھ رہے تھے ان کی سیاسی زندگی دیکھ رہاہوں ،میں ان چوروں کو لٹکاؤن گا ۔ سربراہ عوامی مسلم لیگ نے دعویٰ کیاکہ تین ماہ میں راولپنڈی میں بڑاجواکھیلاگیا۔مخالفین میری سیاسی موت چاہتے تھے۔ انھوں نے کہا کہ میں آمرکی پیداوارنہیں ہوں، جن کی چھتیں ٹپکتی ہے میں ان کا لیڈر ہوں۔ شیخ رشید احمد نے شکوہ کیاکہ عوامی مسلم لیگ کو جان بوجھ کر ترقی نہیں دی۔عمران خان ان سب میں مجھے بہتر نظر آتا ہے،عمران خان کے ساتھ مل کر حکومت بناؤں گا۔شکیل اعوان کی جانب سے دائر درخواست کی سماعت جسٹس شیخ عظمت سعید کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کی تھی اور 20 مارچ کو فریقین کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کیا تھا جو 85 دن بعد سنایا گیا۔سپریم کورٹ آف پاکستان نے عوامی مسلم لیگ کے سربراہ کی نا اہلی کے لیے مسلم لیگ ن کے رہنما شکیل اعوان کی درخواست مسترد کرتے ہوئے شیخ رشید کو اہل قراردے دیا۔

شیخ رشید نے عدالت کے باہر میڈیا کے نمائندگان سے گفتگو کرتے ہوئے شیخ رشید کا کہناتھا کہ "مجھے سب سے منع کیا تھا کہ میں عدالت نہ جاؤں لیکن میں فیصلہ سننے کے لیے آگیا ہوں "۔ فیصؒلہ جو بھی ہوا ہم اس قبول کریں گے "۔سپریم کورٹ نے 17 مارچ 2015 کو دائر ہونے والی اپیل پر یکم جنوری 2017 سے 20 مارچ تک آٹھ سماعتیں کیں۔ شیخ رشیدنےموقف اپنایا تھا کہ انہوں نے اثاثوں سے متعلق غلط بیانی نہیں کی بلکہ ان کے وکیل سے فارم بھرنے میں غلطی ہوگئی تھی۔

متعلقہ خبریں