فیض احمد فیض:جس خاک میں مل کر خاک ہوئے وہ سرمۂ چشم خلق بنی ......... جس خار پہ ہم نے خوں چھڑکا ہم رنگ گل طناز کیا

فیض احمد فیض:جس خاک میں مل کر خاک ہوئے وہ سرمۂ چشم خلق بنی ......... جس خار پہ ہم نے خوں چھڑکا ہم رنگ گل طناز کیا

فیض احمد فیض:جس خاک میں مل کر خاک ہوئے وہ سرمۂ چشم خلق بنی ......... جس خار پہ ہم ... 13 جولائی 2018 (01:25) 1:25 AM, July 13, 2018

کس حرف پہ تو نے گوشۂ لب اے جان جہاں غماز کیا

اعلان جنوں دل والوں نے اب کے بہ ہزار انداز کیا

سو پیکاں تھے پیوست گلو جب چھیڑی شوق کی لے ہم نے

سو تیر ترازو تھے دل میں جب ہم نے رقص آغاز کیا

بے حرص و ہوا بے خوف و خطر اس ہاتھ پہ سر اس کف پہ جگر

یوں کوئے صنم میں وقت سفر نظارۂ بام ناز کیا

جس خاک میں مل کر خاک ہوئے وہ سرمۂ چشم خلق بنی

جس خار پہ ہم نے خوں چھڑکا ہم رنگ گل طناز کیا

لو وصل کی ساعت آ پہنچی پھر حکم حضوری پر ہم نے

آنکھوں کے دریچے بند کیے اور سینے کا در باز کیا

متعلقہ خبریں