فیض احمد فیض:تھی یاروں کی بہتات تو ہم اغیار سے بھی بیزار نہ تھے.........جب مل بیٹھے تو دشمن کا بھی ساتھ گوارا گزرے تھا

فیض احمد فیض:تھی یاروں کی بہتات تو ہم اغیار سے بھی بیزار نہ تھے.........جب مل بیٹھے تو دشمن کا بھی ساتھ گوارا گزرے تھا

فیض احمد فیض:تھی یاروں کی بہتات تو ہم اغیار سے بھی بیزار نہ تھے.........جب مل ... 13 جولائی 2018 (01:21) 1:21 AM, July 13, 2018

کچھ پہلے ان آنکھوں آگے کیا کیا نہ نظارا گزرے تھا

کیا روشن ہو جاتی تھی گلی جب یار ہمارا گزرے تھا

تھے کتنے اچھے لوگ کہ جن کو اپنے غم سے فرصت تھی

سب پوچھیں تھے احوال جو کوئی درد کا مارا گزرے تھا

اب کے خزاں ایسی ٹھہری وہ سارے زمانے بھول گئے

جب موسم گل ہر پھیرے میں آ آ کے دوبارا گزرے تھا

تھی یاروں کی بہتات تو ہم اغیار سے بھی بیزار نہ تھے

جب مل بیٹھے تو دشمن کا بھی ساتھ گوارا گزرے تھا

اب تو ہاتھ سجھائی نہ دیوے لیکن اب سے پہلے تو

آنکھ اٹھتے ہی ایک نظر میں عالم سارا گزرے تھا

متعلقہ خبریں