فیض احمد فیض:ستم سکھلائے گا رسم وفا ایسے نہیں ہوتا....... صنم دکھلائیں گے راہ خدا ایسے نہیں ہوتا

فیض احمد فیض:ستم سکھلائے گا رسم وفا ایسے نہیں ہوتا....... صنم دکھلائیں گے راہ خدا ایسے نہیں ہوتا

فیض احمد فیض:ستم سکھلائے گا رسم وفا ایسے نہیں ہوتا....... صنم دکھلائیں گے راہ ... 13 جولائی 2018 (01:16) 1:16 AM, July 13, 2018

ستم سکھلائے گا رسم وفا ایسے نہیں ہوتا

صنم دکھلائیں گے راہ خدا ایسے نہیں ہوتا

گنو سب حسرتیں جو خوں ہوئی ہیں تن کے مقتل میں

مرے قاتل حساب خوں بہا ایسے نہیں ہوتا

جہان دل میں کام آتی ہیں تدبیریں نہ تعزیریں

یہاں پیمان تسلیم و رضا ایسے نہیں ہوتا

ہر اک شب ہر گھڑی گزرے قیامت یوں تو ہوتا ہے

مگر ہر صبح ہو روز جزا ایسے نہیں ہوتا

رواں ہے نبض دوراں گردشوں میں آسماں سارے

جو تم کہتے ہو سب کچھ ہو چکا ایسے نہیں ہوتا

متعلقہ خبریں