فیض احمد فیض:اترے تھے کبھی فیضؔ وہ آئینۂ دل میں........... عالم ہے وہی آج بھی حیرانئ دل کا

فیض احمد فیض:اترے تھے کبھی فیضؔ وہ آئینۂ دل میں........... عالم ہے وہی آج بھی حیرانئ دل کا

فیض احمد فیض:اترے تھے کبھی فیضؔ وہ آئینۂ دل میں........... عالم ہے وہی آج بھی ... 13 جولائی 2018 (01:12) 1:12 AM, July 13, 2018

کس شہر نہ شہرہ ہوا نادانئ دل کا

کس پر نہ کھلا راز پریشانئ دل کا

آؤ کریں محفل پہ زر زخم نمایاں

چرچا ہے بہت بے سر و سامانی دل کا

دیکھ آئیں چلو کوئے نگاراں کا خرابہ

شاید کوئی محرم ملے ویرانئ دل کا

پوچھو تو ادھر تیر فگن کون ہے یارو

سونپا تھا جسے کام نگہبانئ دل کا

دیکھو تو کدھر آج رخ باد صبا ہے

کس رہ سے پیام آیا ہے زندانئ دل کا

اترے تھے کبھی فیض ؔ وہ آئینۂ دل میں

عالم ہے وہی آج بھی حیرانئ دل کا

متعلقہ خبریں