فیض احمد فیض:ہم ایسے سادہ دلوں کی نیاز مندی سے.......... بتوں نے کی ہیں جہاں میں خدائیاں کیا کیا

فیض احمد فیض:ہم ایسے سادہ دلوں کی نیاز مندی سے.......... بتوں نے کی ہیں جہاں میں خدائیاں کیا کیا

فیض احمد فیض:ہم ایسے سادہ دلوں کی نیاز مندی سے.......... بتوں نے کی ہیں جہاں میں ... 13 جولائی 2018 (01:10) 1:10 AM, July 13, 2018

نہ اب رقیب نہ ناصح نہ غم گسار کوئی

تم آشنا تھے تو تھیں آشنائیاں کیا کیا

جدا تھے ہم تو میسر تھیں قربتیں کتنی

بہم ہوئے تو پڑی ہیں جدائیاں کیا کیا

پہنچ کے در پہ ترے کتنے معتبر ٹھہرے

اگرچہ رہ میں ہوئیں جگ ہنسائیاں کیا کیا

ہم ایسے سادہ دلوں کی نیاز مندی سے

بتوں نے کی ہیں جہاں میں خدائیاں کیا کیا

ستم پہ خوش کبھی لطف و کرم سے رنجیدہ

سکھائیں تم نے ہمیں کج ادائیاں کیا کیا

متعلقہ خبریں