فیض احمد فیض:جو رکے تو کوہ گراں تھے ہم جو چلے تو جاں سے گزر گئے..... رہ یار ہم نے قدم قدم تجھے یادگار بنا دیا

فیض احمد فیض:جو رکے تو کوہ گراں تھے ہم جو چلے تو جاں سے گزر گئے..... رہ یار ہم نے قدم قدم تجھے یادگار بنا دیا

فیض احمد فیض:جو رکے تو کوہ گراں تھے ہم جو چلے تو جاں سے گزر گئے..... رہ یار ہم ... 13 جولائی 2018 (01:01) 1:01 AM, July 13, 2018

نہ گنواؤ ناوک نیم کش دل ریزہ ریزہ گنوا دیا

جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو تن داغ داغ لٹا دیا

مرے چارہ گر کو نوید ہو صف دشمناں کو خبر کرو

جو وہ قرض رکھتے تھے جان پر وہ حساب آج چکا دیا

کرو کج جبیں پہ سر کفن مرے قاتلوں کو گماں نہ ہو

کہ غرور عشق کا بانکپن پس مرگ ہم نے بھلا دیا

ادھر ایک حرف کہ کشتنی یہاں لاکھ عذر تھا گفتنی

جو کہا تو سن کے اڑا دیا جو لکھا تو پڑھ کے مٹا دیا

جو رکے تو کوہ گراں تھے ہم جو چلے تو جاں سے گزر گئے

رہ یار ہم نے قدم قدم تجھے یادگار بنا دیا

متعلقہ خبریں