فیض احمد فیض:جانے کس پر ہو مہرباں قاتل ب...........ے سبب مرگ ناگہاں کی طرح

فیض احمد فیض:جانے کس پر ہو مہرباں قاتل ب...........ے سبب مرگ ناگہاں کی طرح

فیض احمد فیض:جانے کس پر ہو مہرباں قاتل ب...........ے سبب مرگ ناگہاں کی طرح 13 جولائی 2018 (00:58) 12:58 AM, July 13, 2018

یک بیک شورش فغاں کی طرح

فصل گل آئی امتحاں کی طرح

صحن گلشن میں بہر مشتاقاں

ہر روش کھنچ گئی کماں کی طرح

پھر لہو سے ہر ایک کاسۂ داغ

پر ہوا جام ارغواں کی طرح

یاد آیا جنون گم گشتہ

بے طلب قرض دوستاں کی طرح

جانے کس پر ہو مہرباں قاتل

بے سبب مرگ ناگہاں کی طرح

ہر صدا پر لگے ہیں کان یہاں

دل سنبھالے رہو زباں کی طرح

متعلقہ خبریں