فیض احمد فیض:تھے خاک راہ بھی ہم لوگ قہر طوفاں بھی ............. سہا تو کیا نہ سہا اور کیا تو کیا نہ کیا

فیض احمد فیض:تھے خاک راہ بھی ہم لوگ قہر طوفاں بھی ............. سہا تو کیا نہ سہا اور کیا تو کیا نہ کیا

فیض احمد فیض:تھے خاک راہ بھی ہم لوگ قہر طوفاں بھی ............. سہا تو کیا نہ سہا ... 13 جولائی 2018 (00:54) 12:54 AM, July 13, 2018

یہ کس خلش نے پھر اس دل میں آشیانہ کیا

پھر آج کس نے سخن ہم سے غائبانہ کیا

غم جہاں ہو رخ یار ہو کہ دست عدو

سلوک جس سے کیا ہم نے عاشقانہ کیا

تھے خاک راہ بھی ہم لوگ قہر طوفاں بھی

سہا تو کیا نہ سہا اور کیا تو کیا نہ کیا

خوشا کہ آج ہر اک مدعی کے لب پر ہے

وہ راز جس نے ہمیں راندۂ زمانہ کیا

وہ حیلہ گر جو وفا جو بھی ہے جفاخو بھی

کیا بھی فیض ؔ تو کس بت سے دوستانہ کیا

متعلقہ خبریں