امریکا سے سفارتی اور معاشی کشیدگی کے بعد ترکی کی کرنسی ’لیرہ‘ کی ڈالر کے مقابلے میں قیمت میں مسلسل کمی

امریکا سے سفارتی اور معاشی کشیدگی کے بعد ترکی کی کرنسی ’لیرہ‘ کی ڈالر کے مقابلے میں قیمت میں مسلسل کمی

امریکا سے سفارتی اور معاشی کشیدگی کے بعد ترکی کی کرنسی ’لیرہ‘ کی ڈالر کے ... 13 اگست 2018 (16:52) 4:52 PM, August 13, 2018

امریکا سے سفارتی اور معاشی کشیدگی کے بعد ترکی کی کرنسیلیرہ ‘ کی ڈالر کے مقابلے میں قیمت میں مسلسل کمی واقع ہو رہی ہے۔ ترکی میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے امکانات میں کمی کے خدشات کے بعد گذشتہ روز ترک لیرہ ڈالر کے مقابلے میں مزید 7.24 پوائنٹس نیچے آگیا۔

دوسری جانب ترک وزیر خزانہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ لیرہ کی قیمت میں مسلسل کمی ترکی پر کھلا حملہ ہے۔اتوار کی رات اور سوموار کو علی الصباح ایشیا اور پیسفیک میں ترک لیرہہ کی قیمت 7.24 کو چھونے کے بعد پھر 7.06 پر آگیا تھا۔ترک وزیر برائے خزانہ برات البیرق نے ایک بیان میں کہا کہ ان کی حکومت نے کرنسی کا معیار بچانے کے لیے پلان تیار کیا ہے، ریاست کے تمام ادارے جلد ہی اس حوالے سے ضروری اقدامات کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسٹاک مارکیٹ میں قومی کرنسی کی قیمت کو برقرار رکھنے کے لیے ہرممکن اقدام کیا جائےگا۔اخبار ’حریت‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ حکومت نے بنکوں اور اکنامک سیکٹر کے لیے ایک نیا پلان تیارکیا ہے۔ چھوٹی اور درمیانے درجے کی کمپنیوں کوبھی اس منصوبے کا پابند بنایا جائے گا تاکہ کرنسی کے لین دین میں ہونے والے نقصان سے بچا جاسکے۔

خیال رہے کہ رواں سال کے دوران ترک لیرہ 40 فی صد ڈالر کے مقابلے میں نیچے چلا گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ترک لیرہ کی گراوٹ کے کئی اسباب ہیں۔ ایک بڑا سبب امریکا کے ساتھ کشیدگی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ترک صدر کا ملک کی اقتصادیات پر اثر انداز ہونا اور افراط زر سے بچنے کے لیے شرح منافع میں کمی کے اقدامات بتائے جاتے ہیں۔ترک صدر طیب ایردوآن متعدد بار عوام سے لیرہ خریدنے کی اپیل کی ہے۔ امریکا کی طرف سے ترکی سے اسٹیل اور ایلومینیم کی خریداری پر ٹیکس بڑھانے کے بعد ترک لیرہ کی قیمت بیس فی صد کم ہوگئی تھی۔

متعلقہ خبریں