روہنگیا مُسلمانوں کی مُلک بدری اور آسٹریا میں مساجد کو بند کروا دیا جانا ایک ہی ذہنیت کے دو نام ہیں ۔رجب طیب اُردگان مسلمانوں کیحق میں پھر بول پڑے

روہنگیا مُسلمانوں کی مُلک بدری اور آسٹریا میں مساجد کو بند کروا دیا جانا ایک ہی ذہنیت کے دو نام ہیں ۔رجب طیب اُردگان مسلمانوں کیحق میں پھر بول پڑے

روہنگیا مُسلمانوں کی مُلک بدری اور آسٹریا میں مساجد کو بند کروا دیا جانا ایک ... 12 جون 2018 (23:44) 11:44 PM, June 12, 2018

رجب طیب اُردگان کا استنبول میں شبِ قدر کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے آسٹریا کی 60 اماموں کی مُلک بدری اور مساجد کو بند کرنے پر آسٹرین حکومتی اقدامات پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ مُستقبل کی عالمی جنگ مُسلمانوں اور عیسائیوں کے درمیان ہو سکتی ہے . تُرکی کے صدر طیب اُردگان نے آسٹرین حکومت کے اس اقدام کو اسلام مُخالف اور نسل پرستانہ قرار دے دیا ہے . ذرائع کے مُطابق طیب اُردگان کا کہنا تھا کہ روہنگیا مُسلمانوں کی مُلک بدری اور آسٹریا میں مساجد کو بند کروا دیا جانا ایک ہی ذہنیت کے دو نام ہیں ۔

یاد رہیکہ آسٹریا نے کہا ہے کہ وہ ان مساجد کو بند کر دے گا اور ان سے منسلک اماموں کو ملک بدر کردے گا جو ترکی کی امدادپرکام کررہے ہیں۔ اس طرح آسٹریا مساجد کے 60 آئمہ کرام اور ان کے خاندان کے مجموعی طورپر 150 افراد کو ملک بدر کرنے کی منصوبہ بندی کررہا ہے۔

شدت پسند جماعت ’فریڈم‘ کے ایک رکن کیکل نے بتایا جن افراد کو ملک بدر کیا جا رہا ہے ان میں ترکی کے فنڈ سے کام کرنے والے ساٹھ امام شامل ہیں۔ آسٹریا کے چانسلر سبیسچیئن کُرز کا کہنا تھا کہ اس اقدام کا مقصد ملک میں سیاسی اسلام کی بیخ کنی کرنا ہے۔حکام کے مطابق انھیں شک ہے کہ کچھ مساجد کا تعلق ترکی کے قوم پرستوں سے ہے۔مذکورہ مساجد میں سے کچھ کے بارے میں شبہہ ہے کہ ان کے ترک قوم پرستوں سے رابطے ہیں۔اس سال اپریل میں کچھ ایسی تصاویر منظر عام پر آئی تھیں جن میں ان مساجد میں کچھ بچوں کو فوجی وردی میں جنگ عظیم اوّل کے دوران گیلی پولی کی لڑائی کی ڈرامائی تشکیل میں حصہ لیتے ہوا دیکھا جا سکتا تھا۔

ترکی کے صدر کے دفتر نے آسٹریا کے اس اقدام کو 'اسلام مخالف، نسل پرستانہ اور متعصب' قرار دیا گیا ہے۔

متعلقہ خبریں