سولہ اکاؤنٹس میں تین سو ارب روپیہ کہاں سے آیا۔ پی ٹی آئی کا مقابلہ ن لیگ سے زیادہ آزاد امیدواروں سے ہے -پی ٹی آئی کے ترجمان کی ن لیگ پر سوالوں کی بوچھاڑ

سولہ اکاؤنٹس میں تین سو ارب روپیہ کہاں سے آیا۔ پی ٹی آئی کا مقابلہ ن لیگ سے زیادہ آزاد امیدواروں سے ہے -پی ٹی آئی کے ترجمان کی ن لیگ پر سوالوں کی بوچھاڑ

سولہ اکاؤنٹس میں تین سو ارب روپیہ کہاں سے آیا۔ پی ٹی آئی کا مقابلہ ن لیگ سے ... 12 جون 2018 (20:20) 8:20 PM, June 12, 2018

پی ٹی آئی کے ترجمان فواد چودھری کا کہنا ہے کہ :"پہلے ان کو چھ ماہ دیے گئے اور اب ان کو اور ٹائم دےدیا گیا ہے -جب کیس آگے بڑھنے لگتا ہے نئی درخواست آ جاتی ہے -کیس کیا ہے کہ آپ کی جائیداد باہر ہے -پہلے مریم نواز نے صاف انکار کر دیا کہ میری نہ ہی پاکستان می جائیداد ہے اور نہ ہی پاکستان ک باہر -بعد میں انہوں نے نواز شریف اور مریم نواز نے اعتراف کیا کہ ان جائیداد ہے اور یہ جائیداد انہوں نے دبئی سے ملیں بیچ کر لندن میں بنائی ہے -پھر انہوں نے کہا نہیں یہ پیسے ہمیں ایک عربی شیخ نے دیے ہیں -اب عدالت ان سے ایک آسان سا سوال پوچھ رہی ہے کہ ان کے پاس سولہ اکاؤنٹس میں تین سو ارب روپیہ کہاں سے آیا ہے اب خواجہ حارث کہہ رہے ہیں کہ میں دباؤ میں کام نہیں کر سکتا -خواجہ حارث صاحب کو پتہ ہے کہ ان کے جو کلائنٹ ہیں وہ لٹکے ہوئے ہیں اور پھر وہ کیس کو اور لٹکا رہے ہیں -نواز شریف ,مریم نواز ,ان کے دونوں بھائی اسحاق ڈار اور ان کی کمپنی کرپشن کی دلدل میں پھنسیں ہوئے ہیں اور یہ جتنے اس دلدل سےنکلنے کے لیے ہاتھ پاؤں مار رہے ہیں وہ دھنستے چلے جا رہے ہیں تحریک انصاف یہ سمجھتی ہے کہ اگرخواجہ حارث مقدمہ نہیں لڑنا چاہتے تو ان کو سرکاری وکیل مہیا کیا جائے اور مقدمے کو جلد ہی ختم کیا جائے -دوسرا مسئلہ بجلی کا ہے پاکستان میں زیادہ بجلی ہوتی ہی نہیں ہے -جاتے ہوئے شہباز شریف فرماگئے ہیں کہ ہماری حکومت ختم اب بجلی ہمارا مسئلہ نہیں ہے -مجھے سمجھ نہیں آتی کہ یہ بجلی تھی یا بریانی جو جاتے ہوئے شاپر میں ساتھ لے گئے ہیں -اب آپ نے بجلی بنائی ہے تو یہ تو نہیں ہو سکتا ہے کہ آپ سوٹ کیس میں بجلی ڈالیں اور ساتھ لے جائیں اس لیے عمران خان نے نگران وزیر اعظم کو خط لکھا ہے کہ آج عوام جو کرب میں ہے اس کی وجہ کیا ہے -

انہوں نے مزید کہا کہ آپ عوام کو اعتماد میں لیں لوڈشیڈنگ کے متعلق یہ حالت پہلے سے تھے یا جناب ناصر المک کے آنے کے بعد کے ہیں -اور آخر میں جو یہ جاتے جاتے اپنے وفاداروں کو پندرہ بیس عہدے دے گئے ہی تو ہم نے الیکشن کمیشن سے کہا کہ بھائی جان آپ بھی آئین میں بیٹھے ہوئے ہیں یہ جو جاتے جاتے اپنے جاننے والوں کو عہدے دے گئے ہیں ان کا آپ جائزہ لینا پسند فرمائیں گے -تو ابھی تک الیکشن کمیشن ٹک ٹک دیدم ,دم نہ کشیدم کی تفسیر بنے ہوئے ہیں اور ہم بھی انتظار میں بیٹھے ہیں کہ الیکشن کمیشن کچھ ہلے جلے - -پنجاب میں ابھی تک وہی لوگ , آئی جی, ڈپٹی کمیشنر سب کام کر رہے ہیں جو نواز اور شہباز شریف نے بھرتی کیے تھے اور یہ ہی ڈپٹی کمیشنر پی ایم ایل این کے لیے امیدواروں کو منتخب کر رہے ہیں ابھی تک ان کو نہیں ہٹایا گیا -الیکشن میں کچھ دن رہ گئے ہیں -آپ کس طرح کہہ سکتے ہیں کہ آپ صاف اور شفاف انتخابات کروا رہے ہیں - الیکشن کمیشن پی ٹی آئی کی فنڈنگ کے پیچھے پڑا ہوا ہے وہ کام بعد میں ہو جائے گا پہلے یہ کام تو کرو جو آپ کے کرنے کے ہیں - اور جو آئی بی میں نواز شریف نے عہدے دیے ہیں ان کے لیے گزارش کی جائے گی کہ ان کو ہٹایا جائے -اور اب پی ٹی آئی کے اندرونی ٹکٹوں کے مسئلے پر بات کرتا ہوں -الحمداللّٰہ پی ٹی آئی کے نوے فیصد منتخب کردہ امیدواروں پر کسی کو اعتراض نہیں ہے -اور مخالفین ابھی سے پریشان ہیں - ن لیگ ابھی تک اپنے نمائندے ہی نہیں منتخب کر سکی -ان کےاندر ٹوٹ پھوٹ جاری ہے اور جس دن بیوروکریسی بدل گئی اس دن یہ اور ٹوٹیں گے تو میں سمجھتا ہوں کہ پی ٹی آئی کا مقابلہ ن لیگ سے زیادہ آزاد امیدواروں سے ہے - پی ٹی آئی کے اندر جن لوگوں کو اعتراض ہے -پنتالیس سو کے قریب درخواستیں تھیں آٹھ یا نو سو لوگ منتخب کرنے تھے غلطیاں ہر کسی سے ہوتی ہیں ہم نے بہت چھان بین کر کے ریکارڈ دیکھ کے ٹکٹ دیے ہیں لیکن پھر بھی غلطیاں ہو سکتیں ہیں -پاکستان تحریک انصاف کی ویب سائٹ پر آپ آن لائن نظرثانی کے لیے درخواست جمع کرا سکتے ہیں -آپ اس کو جو گلہ ہے بتا سکتے ہیں اور پیسوں کے معاملے کے لیے تو عمران خان صاحب باقاعدہ ایک نمبر دے چکے ہیں -"

متعلقہ خبریں