افغان صدر اشرف غنی کی دعوت پر ان سے ملاقات کے لیے سربراہ پاک فوج جنرل قمر جاوید باجوہ کابل روانہ

افغان صدر اشرف غنی کی دعوت پر ان سے ملاقات کے لیے سربراہ پاک فوج جنرل قمر جاوید باجوہ کابل روانہ

افغان صدر اشرف غنی کی دعوت پر ان سے ملاقات کے لیے سربراہ پاک فوج جنرل قمر ... 12 جون 2018 (17:17) 5:17 PM, June 12, 2018

راولپنڈی: سربراہ پاک فوج جنرل قمر جاوید باجوہ افغان صدر اشرف غنی کی دعوت پر دورہ کابل کے لیے روانہ ہو گئے۔ پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے بذریعہ ٹوئٹ بتایا کہ افغان صدر اشرف غنی کی دعوت پر ان سے ملاقات کے لیے سربراہ پاک فوج جنرل قمر جاوید باجوہ کابل روانہ ہو چکے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ سیکریٹری خارجہ اور ڈی جی آئی ایس آئی بھی آرمی چیف کے ساتھ ہیں۔یاد رہے چند روز قبل افغان طالبان نے عید الفطر کے موقع پر تین روزہ جنگ بندی کا اعلان کیا، افغانستان کی تاریخ میں 17 سال بعد مسلح شدت پسندوں کی جانب سے اس طرح کا اعلان کیا گیا اور ساتھ میں واضح کیا کہ اگر حکومتی سطح پر خلاف ورزی کی گئی تو بھرپور کارروائی کی جائے گی۔

یاد رہیکہ افغان طالبان نےافغان سکیورٹی فورسز کے ساتھ عید الفطر کے موقع پر تین روز کے لیے جنگ بندی کا اعلان کیا ہے۔البتہ انھوں نے کہا ہے کہ ’’ غیر ملکی افواج‘‘ کے خلاف جنگ جاری رکھی جائے گی۔ افغان طالبان نے صدر اشرف غنی کی عید الفطر کے موقع ایک ہفتے کے لیے جنگ بندی کے اعلان کے دوروز بعد اپنا ایک بیان جاری کیا ہے اور اس میں خبردار کیا ہے کہ اگر طالبان جنگجوؤں پر کوئی حملہ کیا گیا تو اس کا بھرپور دفا ع کیا جائے گا۔اکتوبر 2001ء میں امریکا کی افغانستان پر فوجی چڑھائی کے بعد طالبان نے پہلی مرتبہ جنگ بندی کی ہے۔طالبان نے ہفتے کے روز وٹس ایپ کے ذریعے بھیجے گئے ایک پیغام میں کہا ہے کہ ’’تمام مجاہدین کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ عید الفطر کے پہلے تین روز کے دوران میں افغان فورسز کے خلاف اپنی جارحانہ کارروائیاں بند کردیں لیکن مجاہدین پر حملہ کیا گیا تو ہم شدت سے اس کا دفاع کریں گے‘‘۔ طالبان نے مزید کہا ہے کہ ’’ جنگجوؤں کو بھیجے گئے پیغام میں غیر ملکی افواج پر لاگو نہیں ۔ ان کے خلاف کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی۔ہم جہاں کہیں انھیں دیکھیں گے،ان پر حملے کریں گے‘‘۔

دوسری جانب اقوامِ متحدہ، امریکا اور نیٹو کی جانب سے طالبان کے اعلان کا خیر مقدم کیا گیا تاہم کچھ حلقے حکومت اور مسلح افراد کے اس اعلان کو خفیہ معاہدہ بھی قرار دے رہے ہیں۔

متعلقہ خبریں