قتیل شفا ئی : چوروں کا احتساب نہ اب تک ہوا قتیلؔ ........جو ہاتھ بے قصور تھا وہ ہاتھ کٹ گیا

قتیل شفا ئی : چوروں کا احتساب نہ اب تک ہوا قتیلؔ ........جو ہاتھ بے قصور تھا وہ ہاتھ کٹ گیا

قتیل شفا ئی : چوروں کا احتساب نہ اب تک ہوا قتیلؔ ........جو ہاتھ بے قصور تھا وہ ... 12 جون 2018 (15:58) 3:58 PM, June 12, 2018

جب اپنے اعتقاد کے محور سے ہٹ گیا

میں ریزہ ریزہ ہو کے حریفوں میں بٹ گیا

دشمن کے تن پہ گاڑ دیا میں نے اپنا سر

میدان کارزار کا پانسہ پلٹ گیا

تھوڑی سی اور زخم کو گہرائی مل گئی

تھوڑا سا اور درد کا احساس گھٹ گیا

درپیش اب نہیں ترا غم کیسے مان لوں

کیسا تھا وہ پہاڑ جو رستے سے ہٹ گیا

اپنے قریب پا کے معطر سی آہٹیں

میں بارہا سنکتی ہوا سے لپٹ گیا

جو بھی ملا سفر میں کسی پیڑ کے تلے

آسیب بن کے مجھ سے وہ سایا چمٹ گیا

لٹتے ہوئے عوام کے گھر بار دیکھ کر

اے شہریار تیرا کلیجہ نہ پھٹ گیا

رکھے گا خاک ربط وہ اس کائنات سے

جو ذرہ اپنی ذات کے اندر سمٹ گیا

چوروں کا احتساب نہ اب تک ہوا قتیل ؔ

جو ہاتھ بے قصور تھا وہ ہاتھ کٹ گیا

متعلقہ خبریں