نـگران حکومت کا پاکستانی کرنسی روپے پر ظلم جاری۔آئی ایم ایف کے سامنے گردن جھکا دی ۔

نـگران حکومت کا پاکستانی کرنسی روپے پر ظلم جاری۔آئی ایم ایف کے سامنے گردن جھکا دی ۔

نـگران حکومت کا پاکستانی کرنسی روپے پر ظلم جاری۔آئی ایم ایف کے سامنے گردن ... 12 جون 2018 (15:00) 3:00 PM, June 12, 2018

جس روپے کی قیمت کو مُستحکم ہوتے ہوئے بھی کئی سال لگے تھے نگران حکومت کے آتے ہی روپے کہ قیمت اس قدر گھٹا دی کہ اقتصادی ماہرین نے بھی معشیت کیلئے خطرے اور زیادہ مہنگائی کی گھنٹی بجا دی ہے .انٹر بینک مارکیٹ میں ٹریڈنگ کے آغاز پر ہی ڈالر کی قیمت میں اضافہ ہو گیا ہے . مرکز بینک کے اعلان کے باوجود کاروبار میں ڈالر 121 روپے سے بھی زیادہ فروخت ہوا .مارکیٹ بند ہونے پر ڈالر کی قیمت کے اضافے کا طوفان قدرے تھم گیا ہے اور کاروبار 4 روپے اور 22 پیسے کی کمی کیساتھ بند ہوا ہے . ماہرین کے مُطابق جب بھی آئی ایم ایف کے مُذاکرات کی بات چلتی ہے روپیہ حکومت کی جانب سے روپیہ سستا کر دیا جاتا ہے .اس ماہ بھی آئی ایم ایف کی ٹیم پاکستان آ رہی ہے . نگران حکومت نے کوئی بولڈ فیصلہ لینے کی بجائے آئی ایم ایف کے سامنے گردن جھکا دی اور اس فیصلے کونگران حکومت کی جانب سے منظور کر لیا گیا ہے ۔

یاد رہیکہ انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کی قدر میں مسلسل اضافےکا رجحان جاری ہے۔ ہفتے کے پہلے دن، کاروبار کے دوران ڈالر ایک سو اکیس روپے پچیس پیسے میں فروخت کیا گیا۔فاریکس ڈیلرز کے مطابق، کاروباری ہفتے کے پہلے دن روپے کی قدر میں ساڑھے پانچ روپے کا اضافہ ہوا ہے۔ بڑھتی قدر کے سبب ڈالر اوپن مارکیٹ میں بھی نایاب ہوگیا۔ معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق، ڈالر کی بڑھتی ہوئی قیمت معاشی ترقی میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ موجودہ صورتحال میں پاکستان کو انٹرنیشنل مانیٹرنگ فنڈ سےایک اور بیل آوٹ پروگرام کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔فارن اکسچینج ٹریڈرز کے مطابق، پاکستان کے مرکزی اسٹیٹ بینک نے روپے کی قدر میں مزید پانچ فیصد کی کمی کردی ہے۔ ٹریڈرز کہتے ہیں کہ اس کمی کے بعد، ڈالر 121 روپے اور اکیس پیسے پر خریدا جارہا ہے۔

متعلقہ خبریں