مجھے پھانسی پر لٹکا دیں یا جیل بھیج دیں۔سپریم کورٹ کیس اپنے۔۔۔۔۔۔۔۔ نوازشریف عدالت میں پھٹ پڑے۔

مجھے پھانسی پر لٹکا دیں یا جیل بھیج دیں۔سپریم کورٹ کیس اپنے۔۔۔۔۔۔۔۔ نوازشریف عدالت میں پھٹ پڑے۔

مجھے پھانسی پر لٹکا دیں یا جیل بھیج دیں۔سپریم کورٹ کیس اپنے۔۔۔۔۔۔۔۔ ... 12 جون 2018 (13:13) 1:13 PM, June 12, 2018

احتساب عدالت نے سابق وزیراعظم میاں نوازشریف کو اپنے خلاف نیب ریفرنسز کی پیروی کی غرض سے وکیل مقرر کرنے کے لیے 19 جون تک کی مہلت دے دی۔سابق وزیراعظم نواز شریف کا کہنا ہے کہ مجھے پھانسی پر لٹکا دیں یا جیل بھیج دیں ۔ سپریم کورٹ کیس اپنے پاس منگوا لے اور جو فیصلہ کرنا ہے کردے۔

تفصیلات کے مطابق احتساب عدالت میں شریف خاندان کے خلاف ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت احتساب عدالت کے جج محمد بشیرنے کی۔نواز شریف آج وکیل کے بغیرہی احتساب عدالت میں پیش ہوئے، مریم نواز بھی عدالت میں موجود تھیں۔گزشتہ روز نوا ز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے نواز شریف کا مزید کیس لڑنے سے انکار کر دیا تھا۔جس کے بعد سابق وزیراعظم نوازشریف آج احتساب عدالت میں اپنے وکیل کے بغیر پیش ہوئے جبکہ ان کی صاحبزادی مریم نواز بھی عدالت میں پیش ہوئیں۔

سماعت شروع ہوتے ہی جج محمد بشیر نے پوچھا کہ میاں صاحب دوسراوکیل کیا یا خواجہ حارث کو ہی رکھنا ہے؟عدالت نے ابھی تک خواجہ حارث کی پیروی سے دستبرداری درخواست قبول نہیں کی۔

یہ اتنا آسان فیصلہ نہیں ہے، ایک وکیل نے کیس پر9 ماہ محنت کی ہے اسے چھوڑکرنیا وکیل تلاش کروں، ہم تو9 ماہ سے آ رہے ہیں،100 کے قریب پیشیاں بھگت چکے۔ نوازشریف نے کہا کہ خواجہ حارث نے سپریم کورٹ میں کہہ دیا تھا کہ وہ ہفتہ، اتوار کو کام نہیں کریں گے، ہم تو روز لاہور سے آتے ہیں اور سحری کرکے عدالت کے لیے روانہ ہوتے ہیں۔

جج نے کہاکہ ہفتے میں سات دن سماعت کرنی ہے یا نہیں یہ فیصلہ احتساب عدالت نے کرنا ہے۔ کیس کا ٹرائل 4 ہفتے میں مکمل کرنے کا کہا گیا ہے۔ ہفتے کو سماعت کا اختیار اس عدالت کو دیا گیا۔ کمرہ عدالت میں نواز شریف ، مریم نواز کے ہمراہ روسٹر پر کھڑے رہے اور سخت لب و لہجے میں جج سے مکالمہ کیا۔ بولے کہ وکیل صفائی کی بات سے متفق ہوں۔ سپریم کورٹ کیس اپنے پاس منگوا لے، پھر مجھے پھانسی پر لٹکا دیں یا جیل بھیج دیں ۔

جب کہ مریم نواز کے وکیل امجد پرویز نے عدالت سے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ اس مرحلے پر نیا وکیل مقرر کرنا ممکن نہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ہفتے اور اتوار کو یا عدالتی وقت ختم ہونے کے بعد سماعت نہیں ہونی چاہیے۔

نیب پراسیکیوٹرسردار مظفرنے کہا کہ مرضی کا وکیل کرنا ان کا حق ہے، آج امجد پرویزدلائل دے سکتے ہیں جس پرامجد پرویز نے کہا کہ ہم نے اورمیاں صاحب نےعدالتی حکم ابھی نہیں پڑھا۔

جس پرمریم نوازکے وکیل بولے کہ ہم نےاورمیاں صاحب نےسپریم کورٹ کا ابھی حکم نہیں پڑھا۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ نیا وکیل کریں یاخواجہ صاحب کومنا لیں۔ وکیل سے متعلق نوازشریف کو مہلت دیتے ہوئے ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت جمعرات تک ملتوی کر دی گئی جبکہ العزیزیہ ریفرنس کی سماعت 19 جون تک ملتوی کی گئی ہے۔مریم نواز اور نواز شریف کو جمعرات کو عدالت میں حاضری سے استثنیٰ بھی دے دیاگیا۔احتساب عدالت نے ایون فیلڈریفرنس پرسماعت 14 جون تک ملتوی کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر سابق وزیراعظم نوازشریف اورمریم نوازکوحاضری سے استثنیٰ دے دیا۔سابق وزیراعظم کی صاحبزادی کے وکیل امجد پرویز 14جون کو ایون فیلڈریفرنس میں حتمی دلائل دیں گے۔احتساب عدالت نے مسلم لیگ ن کے قائد کو 19 جون تک نواز شریف کو نیا وکیل لانے کے لیے وقت دے دیا، عدالت نے کہا کہ خواجہ حارث کومنائیں یا نئے وکیل کے ساتھ 19جون کو آئیں۔

متعلقہ خبریں