چیف جسٹس نے کہا ہے کہ ایک ماہ میں ہمارے کیس کا فیصلہ دیا جائے۔بیٹے سے تنخواہ نہ لینے پر وزیر اعظم ہاؤس سے نکال دیا گیا۔نواز شریف نے پریشانی بیان کر دی

چیف جسٹس نے کہا ہے کہ ایک ماہ میں ہمارے کیس کا فیصلہ دیا جائے۔بیٹے سے تنخواہ نہ لینے پر وزیر اعظم ہاؤس سے نکال دیا گیا۔نواز شریف نے پریشانی بیان کر دی

چیف جسٹس نے کہا ہے کہ ایک ماہ میں ہمارے کیس کا فیصلہ دیا جائے۔بیٹے سے تنخواہ ... 11 جون 2018 (20:49) 8:49 PM, June 11, 2018

لاہور:لاہورمیں مسلم لیگ نون کےقائد نوازشریف نے پریس کانفرنس کرتےہوئے کہاکہ خواجہ حارث آج میرے ریرفرنسز سے دستبردار ہوگئے ہیں، ایسا ماحول بنادیا گیا ہے کہ وکیل کی خدمات سے بھی محروم ہوگیا ہوں۔ایسی اطلاعات دوسرے وکیل کی جانب سے بھی آرہی ہیں چیف جسٹس نے کہا ہے کہ ایک ماہ میں ہمارے کیس کا فیصلہ دیا جائے۔ آج احتساب عدالت نے نیا وکیل کرنے کا کہا ہے، نیا وکیل کرنے کیلئے احتساب عدالت سے وقت مانگا ہے۔ خواجہ حارث نے کہا تھا ہفتہ اور اتوار کو پیش نہیں ہوسکتا، کوئی بھی وکیل شرائط کی وجہ سے پیش ہونے کو تیار نہیں۔نوازشریف نےسوال کیاکہ کیاکسی مقدمےکی ایسی سماعت ہورہی ہے؟کیاکوئی ایک مقدمہ ایساہےجس کی مانیٹرنگ کوئی جج کررہاہو۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا، نواز شریف نے کہا کہ احتساب عدالت سے نیا وکیل کرنے کے لیے وقت مانگا ہے، میرے وکلا کو بغیر تیاری عدالت میں پیش ہونے کا کہا جارہا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ میرے لیے ایسا ماحول بنا دیا گیا ہے کہ میں وکیل کی خدمات سے محروم ہوگیا ہوں۔ کیا کسی مقدمے کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت ہو رہی ہے۔ میرے بنیادی حقوق بری طرح سلب کیے جارہے ہیں، اگر کوئی وکیل تیار کروں تو اسے کیس کا مطالعہ کرنے میں وقت لگے گا۔سابق وزیر اعظم نے کہا کہ ریفرنس سے دستبرداری کی درخواست نیب عدالت کو جمع کرائی ہے، احتساب عدالت نے مجھے نیا وکیل کرنے کی ہدایت کی ہے، کوئی بھی وکیل ہفتہ وار چھٹی، سخت شرائط پر پیش ہونے کو تیار نہیں۔سابق وزیر اعظم نے کہا کہ جے آئی ٹی کیسے بنی، واٹس ایپ کالز کس نے کی، جے آئی ٹی نے کہاں کہاں گل کھلائے، بیٹے سے تنخواہ نہ لینے پر وزیر اعظم ہاؤس سے نکال دیا گیا، اس کے بعد بات نہ بنی تو ضمنی ریفرنسز لائے گئے، ثبوت تو دور کی بات کسی کرپشن کا الزام بھی ثابت نہ کرسکے۔

نواز شریف نے کہا کہ اب تک بہت سے راز کھل چکے ہیں، مجھے اپنی اہلیہ سے ملنے کی اجازت بھی نہیں دی جا رہی۔ ایک روپے کی کرپشن ثابت نہیں ہوئی تو اقامے پر نکالا گیا۔

متعلقہ خبریں