پنجاب سے کون جیتے گا؟اعلیٰ سول انٹیلی جنس ایجنسی نے رپورٹ جاری کر دی

پنجاب سے کون جیتے گا؟اعلیٰ سول انٹیلی جنس ایجنسی نے رپورٹ جاری کر دی

پنجاب سے کون جیتے گا؟اعلیٰ سول انٹیلی جنس ایجنسی نے رپورٹ جاری کر دی 11 جون 2018 (16:33) 4:33 PM, June 11, 2018

قومی اخبار میں شائع رپورٹ میں بتایا گیا کہ سرکاری ذرائع نے اعلیٰ سول انٹیلی جنس ایجنسی کی مضبوط اُمیدواروں کے حوالے سے تحریک انصاف سے متعلق " سروے رپورٹ '' کا انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ ایجنسی نے پی ٹی آئی کو الیکشن 2018 میں پنجاب کی "لیڈنگ پارٹی" کا ٹیگ دیا جسے اس کی کامیابی کا سگنل کہا جا سکتا ہے ۔ سول انٹیلی جنس ایجنسی کے مطابق تحریک انصاف کے مضبوط علاقوں میں اٹک، راولپنڈی، منڈی بہاؤالدین، چکوال، سرگودھا، خوشاب، میانوالی، جھنگ، قصور، اوکاڑہ، ساہیوال، خانیوال، ملتان، وہاڑی، رحیم یار خان، مظفرگڑھ، لیہ، ڈیرہ غازی خان، راجن پور، بہاولپور، چنیوٹ اور جہلم شامل ہیں، تحریک انصاف کے متوسط قوت والے علاقوں میں گوجرانوالہ، لاہور، سیالکوٹ، ننکانہ صاحب، گجرات، فیصل آباد، شیخوپورہ، نارووال، ٹوبہ ٹیک سنگھ، بہاولنگر، پاکپتن اور حافظ آباد شامل ہیں۔

ذرائع نے رپورٹ سے قومی اسمبلی کے کچھ مضبوط امیدواروں کے ناموں کا انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ ان میں این اے 55اور 56سے طاہر صادق، این اے 61 سے عامر محمود کیانی، این اے 63سے غلام سرور ، این اے 64 سے غلام عباس، این اے 72سے فردوس عاشق اعوان، این اے 67سے چوہدری فواد حسین، این اے 79سے احمد چٹھہ، این اے 86 سے نذر محمد گوندل، این اے 87سے شوکت علی بھٹی، این اے 88سے ندیم افضل گوندل، این اے 89سے اسامہ غیاث میلہ، این اے 91 سے عامر سلطان چیمہ، این اے 92سے ظفر قریشی، این اے 93سے عمر اسلم، این اے سے 95عمران خان، این اے 96 سے امجد علی، این اے 98 سے افضل ڈھانڈلہ، این اے 100سے ذوالفقار علی شاہ، این اے 101سے ظفر ساہی، این اے 105سے رانا آصف توصیف، این اے 106سے ڈاکٹر نثار احمد، این اے 111سے اسامہ حمزہ، این اے 112سے چوہدری اشفاق، این اے 114سے محبوب سلطان، این اے 115سے غلام بی بی بھروانہ، این اے 116سے امیر سلطان، این اے 117سے بلال ورک، این اے 120 سے علی اصغر منڈا، این اے 125سے ڈاکٹر یاسمین راشد، این اے 128سے اعجازڈیال، این اے 131اے عمران خان، این اے 134سے ملک ظہیر عباس کھوکھر، این اے 135سے ملک کرامت کھوکھر، این اے 137سے رشید طفیل، این اے 138سے سردار آصف علی، این اے 139سے ڈاکٹر عظیم الدین لکھوی، این اے 140سے سردار طالب نکئی، این اے 142سے رائو حسن سکندر، این اے 146سے امجد جوییہ، این اے 147سے نوریز شکور، این اے 148سے محمد یار ڈھکو، این اے 149سے رائے مرتضیٰ اقبال، این اے 150سے رضا حیات ہراج، این اے 151سے احمد یار ہراج، این اے 155سے عامر ڈوگر، این اے 156سے شاہ محمود قریشی، این اے 157سے زین قریشی، این اے 159سے رانا قاسم نون، این اے 162سے عائشہ نذیر، این اے 163سے اسحاق خاکوانی، این اے 165سے اورنگززیب خان کھچی، این اے 167سے ممتاز متیانہ، این اے 175سے مخدوم احمد عالم، این اے 177سے خسرو بختیار، این اے 181سے غلام مصطفیٰ کھر، این اے 186سے عامر گوپانگ، این اے 188سے نیاز احمد جھکڑ، این اے 189سے خواجہ شیراز، این اے 190سے ذوالفقار کھوسہ، این اے 191سے زرتاج گل، این اے 192سے محمد خان لغاری، این اے 193سے جعفر خان لغاری، این اے 194سے نصراﷲ دریشک اور این اے 195سے ریاض محمود لغاری شامل ہیں۔

پنجاب اسمبلی کے مضبوط امیدواروں میں پی پی 2سے قاضی احمد اکبر، پی پی4سے ملک انور، پی پی 6سے محمد لتسوب ستی، پی پی 8سے جاوید کوثر، پی پی 9سے ساجد محمود، پی پی 16سے راجہ راشد ، پی پی 17سے فیاض الحسن چوہان، پی پی 20 سے ملک تیمور مسعود اکبر، پی پی 21سے حافظ مسرور، پی پی 23سے آفتاب اکبر، پی پی 72سے حسن انعام پراچہ، پی پی 73 سے خالک داد، پی پی 75سے منیب سلطان چیمہ، پی پی 76سے فیصل فاروق چیمہ، پی پی 80سے غلام علی اصغر لہڑی، پی پی 82سے فتح خالق بندیال، پی پی 83سے حامد ٹوانہ، پی پی 84سے سردار شجاع ، پی پی 85سے عبدالرحمٰن خان، پی پی 88سے سبطین خان، پی پی 91سے عباس چھینہ، پی پی 92سے عامر عنایت خان شاہانی، پی پی 28سے زبیر احمد ٹانڈا، پی پی 31سے سلیم جوڑا، پی پی 33سے لیاقت علی بھدر، پی پی 35سے میاں عابد، پی پی 36سے طاہر ہنڈلی، پی پی 39سے تنویرالاسلام، پی پی 42سے ضیا اﷲ کھارا، پی پی 47سے نیامت علی جاوید، پی پی 52سے احمد چٹھہ، پی پی 53سے ناصر چیمہ، پی پی 57سے نعمان چٹھہ، پی پی 60سے ظفر چیمہ، پی پی 66سے طارق تارڈ، پی پی 67سے وسیم افضل گوندل، پی پی 70سے فیاض اعوان، پی پی 71سے احسن عنصر، پی پی 134سے رائے اسلم خان، پی پی 136سے خرم اعجاز چٹھہ، پی پی 148سے اجاسم شریف، پی پی 149سے زبیر خان نیازی، پی پی 151سے میاں اسلم اقبال، پی پی 152سے مہر واجد عظیم، پی پی 154سے منصب اعوان، پی پی 157سے شعیب صدیقی، پی پی 158سے علیم خان، پی پی 160سے میاں محمود الرشید، پی پی 173سے سرفراز کھوکھر، پی پی 176سے حسین ڈوگر، پی پی 177سے ہاشم ڈوگر، پی پی 179سے ملک مختار ، پی پی 180سے سردار آصف نکئی، پی پی 94 سے علی حسن قاضی، پی پی 97سے علی افضل ساہی، پی پی 98سے افضل ساہی، پی پی 100سے چوہدری ظہیرالدین، پی پی 104سے شاہد خلیل نور، پی پی 108سے آفتاب احمد خان، پی پی 109سے ندیم آفتاب سندھو، پی پی 124سے سردار غلام احمد خان گادھی، پی پی 128سے غضنفر عباس شاہ، پی پی 190سے حماد اسلم کھرل، پی پی 198سے فیصل احمد، پی پی 199سے ارشاد کاٹھیا، پی پی 201سے رائے مرتضیٰ، پی پی 203سے اکبر حیات ہراج، پی پی 207سے عباس علی شاہ، پی پی 217سے شاہ محمود قریشی، پی پی 218سے مظہر عباس، پی پی 221سے سہیل احمد نون، پی پی 229سے نذیر احمد جٹ، پی پی 231سے اسحاق خان خاکوانی، پی پی 235سے علی رضا خاکوانی، پی پی 236سے جہانزیب کھچی، پی پی 245سے اصغر جوئیہ، پی پی 246سے تحسین نواز گردیزی، پی پی 251سے جہانزیب وران، پی پی 265سے ارسلان لغاری، پی پی 269سے مخدوم مظفر ، پی پی 271سے نوابزادہ منصور خان، پی پی 273سے سبطین رضا اور پی پی 288سے سیف الدین کھوسہ شامل ہیں۔

اس سے قبل اکنامسٹ انٹیلیجنس یونٹ جو کہ انتہائی مُعتبر ہے اُس کے مطابق شہباز شریف پاکستان وزیرِ اعظم بن سکتے ہیں .نواز شریف بدستور اہم پارٹی ممبر رہیں گے .اکنامسٹ نے یہ خدشہ ظاہر کیا ہے کہ غیر موافق عدالتی فیصلے ,فوج کے کیساتھ خراب تعلقات اور اپوزیشن پارٹیوں کی مُخالفت ن لیگ کی جیت میں رکاوٹ بن سکتی ہے .اکنامسٹ نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ آئندہ الیکشن کے دوران سیاسی استحکام کو خطرات لاحق رہیں گے .گیلپ پاکستان ,دُنیا کا ایک نامی گرامی سروے ادارہ ہے جس نے پاکستان میں ایک سروے ٰ کیا تھا کہ نواز شریف کے پارٹی صدر نہ رہنے سے مُسلم لیگ ن کے ووٹ بینک پر کوئی اثر پڑے گا . جس کے جواب میں 35% افراد کا کہنا تھا کہ نواز شریف کے پارٹی صدر نہ رہنے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا .25 % افراد نے کہا کہ نواز شریف کے پارٹی چُھوڑنے سے ووٹ بینک بڑھے گا . جبکہ 26% افراد کی رائے تھی کہ مُسلم لیگ ن کا ووٹ بینک کم ہو گا .گیلپ سروے کے مطابق مُسلم لیگ ن کی مقبولیت 2013 میں 33% سے بڑھ کر اب 38% ہو چُکی ہے جبکہ تحریکِ انصاف کی مقبولیت 17% سے بڑھ کر 25 فیصد ہق چُکی ہے .گیلپ کے سربراہ کا کہنا ہے کہ پنجاب میں مُسلم لیگ ن کو باقی جماعتوں کے مُقابلے میں 20 فیصد برتری حاصل ہے اگر یہ ہی صورتحال رپی تو مُسلم لیگ ن سب سے بڑی پارلیمانی جماعت بن کر اُبھرے گی .گیلپ کے مُطابق مُسلم لیگ ن تحریکِ انصاف کے مُقابلے میں پنجاب میں اکثریتی ووٹوں سے جیتے گی .

متعلقہ خبریں