اگر ایران نے مشرقِ اوسط کے تیل کی برآمدات میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی تو اس کو ایسے اقدامات کی بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔امریکی وزیر خارجہ

اگر ایران نے مشرقِ اوسط کے تیل کی برآمدات میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی تو اس کو ایسے اقدامات کی بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔امریکی وزیر خارجہ

اگر ایران نے مشرقِ اوسط کے تیل کی برآمدات میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی تو اس کو ... 11 جولائی 2018 (16:36) 4:36 PM, July 11, 2018

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے ایران کو خبردار کیا ہے کہ اگر اس نے مشرقِ اوسط کے تیل کی برآمدات میں رخنہ ڈالنے کی کوشش کی تو اس کو ایسے اقدامات کی بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔

انھوں نے یہ بات منگل کے روز متحدہ عرب امارات کے مختصر دورے کے موقع پر کہی ہے۔انھوں نے کہا کہ’’ ہم ایران کی مالیاتی صلاحیت کو اس طرح کا برا کردار جاری رکھنے کی اجازت نہیں دیں گے۔اس لیے ایرانی رجیم کے خلاف وسیع تر پابندیاں کی جائیں گی اور ان کا مقصد ایرانی رجیم کو یہ باور کرانا ہے کہ اس کا مخالفانہ کردار بالکل ناقابلِ قبول ہے اور اس کو اس کا بھاری خمیازہ بھگتنا پڑے گا لیکن ان پابندیوں کا ہدف ایرانی عوام نہیں ہوں گے‘‘۔مائیک پومپیو نے امارات کی قیادت سے ایرانی صدر حسن روحانی کی آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی حالیہ دھمکیوں کے بارے میں تبادلہ خیال کیا ہے۔حسن روحانی نے گذشتہ ہفتے یورپ کے دورے کے موقع پر کہا تھا کہ اگر ایران کی تیل کی برآمدات میں رخنہ ڈالنے کی کوشش کی گئی تو پورے خطے کی برآمدات کو روک دیا جائے گا۔واضح رہے کہ آبنائے ہرمز سے دنیا کا ایک تہائی تجارتی مال اور تیل ہو کر گذرتا ہےمائیک پومپیو نےاس کے ردعمل میں کہا:’’ ایران کو یہ بات جان لینی چاہیے کہ امریکا آبی گذرگاہوں کو کھلا رکھنے کے لیے پُرعزم ہے۔وہ پوری دنیا کے لیے تیل کی دستیابی کو برقرار رکھنا چاہتا ہے۔یہ عشروں سے ہمارا عزم ہے اور ہم اس کو جاری رکھنا چاہتے ہیں‘‘۔

متعلقہ خبریں