شام اور عراق میں شکست کھانے والے ’داعش‘ کے ہزاروں جنگجو اب بھی مفرور ہیں جو عالمی اور علاقائی سلامتی کے لیے بدستور خطرہ ہیں۔امریکی جنرل

شام اور عراق میں شکست کھانے والے ’داعش‘ کے ہزاروں جنگجو اب بھی مفرور ہیں جو عالمی اور علاقائی سلامتی کے لیے بدستور خطرہ ہیں۔امریکی جنرل

شام اور عراق میں شکست کھانے والے ’داعش‘ کے ہزاروں جنگجو اب بھی مفرور ہیں جو ... 11 جولائی 2018 (16:21) 4:21 PM, July 11, 2018

امریکی فوج کے ایک جنرل نے خبردار کیا ہے کہ شام اور عراق میں شکست کھانے والے ’ داعش ‘ کے ہزاروں جنگجو اب بھی مفرور ہیں جو عالمی اور علاقائی سلامتی کے لیے بدستور خطرہ ہیں۔

غیر ملکی میڈیا کیمطابق مطابق امریکی فوج کے جنرل مائیک ناگاٹا نے کہا کہ عراق اور شام میں اپنے علاقے کھونے کے بعد ’ داعش ‘ کے جنگجو تتر بتر ہو گئے ہیں مگر وہ خود کو کسی بھی وقت منظم کر سکتے ہیں۔اُنہوں نے کہا کہ شام اور عراق کے وسیع رقبے پر قبضے کے دوران داعش کے جنگجوؤں کی تعداد 40 ہزار تک پہنچ گئی تھی مگر ان دونوں عرب ملکوں میں جاری لڑائی کے نتیجے میںداعش ‘ کے جنگجوؤں کی بڑی تعداد ہلاک یا گرفتار کرلی گئی ہے جب کہ ہزاروں جنگجو اب بھی مفرور ہیں۔ امریکی جنرل کا کہنا تھا کہ القاعدہ کے دور میں عراق میں جوکچھ ہوتا رہا ہے اسے داعش نے ایک بار پھر دہرایا۔ یہ عین ممکن ہے کہ داعش ایک نئے انداز میں دوبارہ سامنے آجائے۔واشنگٹن میں مشرق بعید انسٹیٹیوٹ میں ایک تقریب سے میں جنرل ناگاٹا نے کہا کہ شام سے امریکی فوج کے نکلنے سے داعش کو منظم ہونے اور دوبارہ سرگرم ہونے کا موقع مل سکتا ہے۔ داعش کو فعال ہونے سے روکنے کی تجویز پر بات کرتے ہوئے امریکی فوجی عہدیدار نے کہا کہ مقامی حکومتوں کو داعش کے خطرے سے ہروقت چوکنا رہنا ہو گا۔

متعلقہ خبریں