اللہ تعالٰی کی رحمت کا ایمان افروز واقعہ-وہ آدمی جو چالیس سال سے اللہ کی نافرمانی کر رھا تھا -لیکن اسکی معافی مانگن پر اللہ نے اسکے ساتھ کیا معاملہ فرمایا-پڑھئے

اللہ تعالٰی کی رحمت کا ایمان افروز واقعہ-وہ آدمی جو چالیس سال سے اللہ کی نافرمانی کر رھا تھا -لیکن اسکی معافی مانگن پر اللہ نے اسکے ساتھ کیا معاملہ فرمایا-پڑھئے

اللہ تعالٰی کی رحمت کا ایمان افروز واقعہ-وہ آدمی جو چالیس سال سے اللہ کی ... 10 جون 2018 (23:01) 11:01 PM, June 10, 2018

بنی اسرائیل کے زمانے میں ایک مرتبہ قحط پڑ گیا -مدتوں سے بارش نہیں ہو رہی تھی -لوگ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس آگئے اور عرض کیا :"یا کلیم اللّٰہ رب تعالٰی سے دعا فرمائیں کہ وہ بارش نازل فرمائے ''

چنانچہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم کو ساتھ لیا اور بستی سے دعا کے لیے باہر چلے گئے -یہ لوگ ستر ہزار یا اس سے کچھ زیادہ تھے -موسٰی علیہ السلام نے بڑی عاجزی سے دعا کرنا شروع کی :"میرے پروردگار ہمیں بارش سے نواز ,ہمارے اوپر اپنی رحمتوں کی نوازش کر -چھوٹے چھوٹے معصوم بچے,بےزبان جانور ,بوڑھے اور بیمار سب ہی تیری رحمت کے امیدوار ہیں -تو ان پر ترس کھاتے ہوئے ہمیں اپنے دامن رحمت میں جگہ دے -"

دعائیں ہوتی رہی مگر بارش کا دور دور تک پتہ نہ تھا - سورج کی تپش اور تیز ہوگئی

حضرت موسیٰ علیہ السلام کو بڑا تعجب ہوا -اللّٰہ تعالٰی سے دعا نہ قبول ہونے کی وجہ پوچھی تو وحی نازل ہوئی :"تمہارے درمیان ایک ایسا شخص ہے جو گزشتہ چالیس سالوں سے مسلسل میری نافرمانی کر رہا ہے اور گناہوں پر مصر ہے -اے موسیٰ !آپ لوگوں میں اعلان کر دیں وہ نکل جائے کیونکہ اس آدمی کی وجہ سے بارش رکی ہوئی ہے اور جب تک وہ باہر نہیں نکلتا بارش نہیں ہو گی -"

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا :"باری تعالٰی ,میں کمزور سا تیرا بندہ ,میری آواز بھی ضعیف ہے -یہ لوگ ستر ہزار یا اس سے بھی زیادہ ہیں میں ان تک کیسے آواز پہنچاؤں گا "

جواب ملا :"تیرا کام آواز دینا ہے ,پہنچانا ہمارا کام ہے "حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم کو آواز دی اور کہا :"اے رب کے گناہ گاراور نافرمان بندے ,جو گزشتہ چالیس سال سے اپنے رب کو ناراض کر رہا ہے اور اس کو دعوت مبارزت دے رہا ہے -لوگوں میں سے باہر آجا-تیرے ہی کالے کرتوتوں کی پاداش میں ہم باران رحمت سے محروم ہیں "

اس گناہ گار بندے نے اپنے دائیں بائیں دیکھا - کوئی بھی اپنی جگہ سے نہ ہلا -وہ سمجھ گیا کہ وہ ہی مطلوب ہے - سوچا کہ اگر میں تمام لوگوں کے سامنے بایر نکلا تو بےحد شرمندگی ہو گی -اور میری جگ ہنسائی ہو گی -اور اگر میں باہر نہ نکلا تو محض میری وجہ سے تمام لوگ بارش سے محروم رہیں گے

اب اس نے اپنا چہرہ اپنی چادر میں چھپا لیا - اپنے گزشتہ اعمال اور افعال پر شرمندہ ہوا اور یہ دعا کی -:"اے میرے رب !تو کتنا کریم اور بردبار ہے کہ میں چالیس سال تک تیری نافرمانی کرتا رہا اور تو مجھے مہلت دیتا رہا اور اب تو میں یہاں تیرا فرمانبردار بن کر آیا ہوں میری توبہ قبول فرما کر آج کی ذلت و رسوائی سے بچا لے "

ابھی اس کی بات بھی پوری نہیں ہوئی تھی کہ آسمان بادلوں سے بھر گیا اور موسلادھار بارش شروع ہو گئی

اب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے دوبارہ عرض کیا :"یا الٰہی آپ نے بارش کیسے برسانا شروع کر دی وہ نافرمان بندہ تو مجمے سے باہر نہیں آیا " اللّٰہ تعالٰی نے فرمایا :"اے موسیٰ !جس کی بدولت میں نے بارش روک رکھی تھی ,اسی کی بدولت اب بارش برسا رہا ہوں اس لیے کہ اس نے توبہ کر لی ہے-"

موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا :"یا اللّٰہ !اس آدمی سے مجھے بھی ملا دے تاکہ اس کو دیکھ لوں "

فرمایا :"موسیٰ !میں نے اس کو اس وقت رسوااور خوار نہیں کیا جب وہ میری نافرمانی کرتا رہا اور اب جبکہ وہ میرا مطیع و فرمانبراد ہے تو اسے کیسے شرمندہ اور رسوا کر سکتا ہوں "

وہ ایک گناہ گار اور نافرمان شخص تھا - اور اس کی بدولت بارش کا نزول نہیں ہو رہا تھا اگر چند کو چھوڑ کر پوری امت گناہگار اور غفلت میں ہو تو پھر کیا حشر ہو گا