ترکی میں فوج نے بغاوت کی عوام ٹینکوں کے سامنے لیٹ گئے انہوں نے کہ۔۔۔۔۔۔۔۔یہ ہے جمہوریت یہ ہے کارکردگی ۔۔۔۔دفاعی تجزیہ کار شاہد لطیف کا اردگان کا پاکستانی سیا ستدانوں سے زبردست موازنہ

ترکی میں فوج نے بغاوت کی عوام ٹینکوں کے سامنے لیٹ گئے انہوں نے کہ۔۔۔۔۔۔۔۔یہ ہے جمہوریت یہ ہے کارکردگی ۔۔۔۔دفاعی تجزیہ کار شاہد لطیف کا اردگان کا پاکستانی سیا ستدانوں سے زبردست موازنہ

ترکی میں فوج نے بغاوت کی عوام ٹینکوں کے سامنے لیٹ گئے انہوں نے کہ۔۔۔۔۔۔۔۔یہ ... 10 جون 2018 (21:22) 9:22 PM, June 10, 2018

دفاعی تجزیہ کار شاہد لطیف کا کہنا ہے کہ :''کیاسپریم کورٹ کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ ہائی کورٹ کے فیصلے کو بدل سکے -جب سپریم کورٹ حکومت کے حق میں فیصلہ کرتی ہے تو سپریم کورٹ ٹھیک ہے اور اگر نہیں کرتی تو وہ نہیں ٹھیک اگر کسی کو کوئی اعتراض ہے تو وہ جاکر اپیل دائر کرے عدالت میں -اور عدالت کو اپنے اعتراضات سے آگاہ کرے -ابھی یہ مقدمی اپنے ختمی نتیجے پر نہیں پہنچا-آپ کا آئین کہتا ہے کہ یہ صحیح ہے اگر آپ کو کوئی اعتراض تھا تو آپ حکومت میں رہے آپ وہ آرٹیکل ہی بدل دیتےاگر آپ کو اعتراض تھا معاون کاروں پر -آئین اور قانون سب کے لیے یکساں ہے - بالکل ہمارے ملک میں یہ بدقسمتی ہے کہ سول حکومت اور ہمارا جو دفاعی ادارہ ہے وہ دست وگریباں رہیں -

اس کی وجوہات ہیں اور یہ معاملہ اس وقت تک حل نہیں ہو سکتا جب تک اسے باقاعدہ حل نہیں کیا جاتا ان معاملات میں پہلے آپ بتائیں عوام کو -جیسا کہ طیب اردگان نے ترکی میں بتایا وہاں سے فوج واپس چلی گئی اس کا انتظامیہ اور گورنر کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ ہی ہونا چاہیے لیکن آپ بتائیں گے تو پتہ چلے گا اور یہ فیصلہ عوام نے ہی کرنا ہے لیکن آپ بتائیں گے تو تب آپ عوام کی خدمت کریں گے تو تب - ترکی کے حالات آپ کے سامنے ہیں وہاں فوج نے بغاوت کی عوام ٹینکوں کے سامنے لیٹ گئے انہوں نے کہا ہم فوج کی مداخلت قبول نہیں کریں گے ہم فوج کی بغاوت قبول نہیں کریں گے دو دفعہ انہوں نے طیب اردگان صاحب کو وزیر اعظم منتخب کیا اور اس دفعہ صدر بنا دیا ہے -یہ ہے جمہوریت یہ ہے کارکردگی جس کے تحت عوام آپ کے ساتھ ہے -میں فوج کے ساتھ نہیں ہوں فوج کا کام نہیں ہے ملک کی بھاگ دوڑ سنبھالنا میں مارشل لاء کے حق میں نہیں ہوں -اگر آپ چاہتے ہیں کہ فوج مداخلت نہ کرے تو اپنی کارکردگی سے عوام کو اپنے ساتھ کریں پھر فوج مداخلت نہیں کرے گی -یہ نہیں کہ آپ کہیں ہم نے بجلی پوری کر لی اور ملک اندھیرے میں ڈوبا ہو -آپ کہیں پانچ سال ہم سے حکومت کروا لیں اور ہماری کارکردگی کے بارے میں نہ پوچھیں -بس الیمشن آئیں تو آپ سے پوچھیں اور پھر تب فیصلہ ہو جمہوریت یہ نہیں یے جمہوریت کا فیصلہ روزانہ کی بات پر ہوتا ہے "

متعلقہ خبریں