پرویز مشرف واپس نہیں آئیں گے اور نہ ہی انہیں الیکشن میں کھڑا۔۔۔۔ایک اشتہاری ملزم کو ہم پہلے بھی سینیٹر بننے کا موقع دے چکے ہیں۔پرویز مشرف کیخلاف پیپلز پارٹی کے اہم راہنما کا مؤقف

پرویز مشرف واپس نہیں آئیں گے اور نہ ہی انہیں الیکشن میں کھڑا۔۔۔۔ایک اشتہاری ملزم کو ہم پہلے بھی سینیٹر بننے کا موقع دے چکے ہیں۔پرویز مشرف کیخلاف پیپلز پارٹی کے اہم راہنما کا مؤقف

پرویز مشرف واپس نہیں آئیں گے اور نہ ہی انہیں الیکشن میں کھڑا۔۔۔۔ایک اشتہاری ... 10 جون 2018 (21:03) 9:03 PM, June 10, 2018

سابق صدر جنرل پرویز مشرف کے پاکستان واپس آنے اور الیکشن لڑنے کے بارے میں پیپلز پارٹی کے رہنما قمر زمان قائرہ نے اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے -قمر زمان کائرہ کا کہنا ہے کہ :" پرویز مشرف واپس نہیں آئیں گے اور نہ ہی انہیں الیکشن میں کھڑا ہونے کی اجازت دینی چاہیے تھی وہ اشتہاری ملزم ہیں اور ایک اشتہاری ملزم کو ہم پہلے بھی سینیٹر بننے کا موقع دے چکے ہیں میں اتنا زیادہ قانون کو نہیں جانتا لیکن میرے خیال میں عدالت کو اس طرح کا فیصلہ کرنے سے احتراز برتنا چاہیے -"پیپلز پارٹی کے ,پارٹی ٹکٹس کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ :"ہم نے تمام نام فائنل کر لیے ہیں -اگلے کچھ گھنٹوں میں یا کل تک چیئرمین بلاول بھٹو زرداری صاحب ان ناموں کا اعلان کر دیں گے -"

وا ضح رہیکہ آل پاکستان مسلم لیگ (اے پی ایم ایل) کے سربراہ اور سابق صدر پرویز مشرف نے پنجاب کے ضلع لیہ سے اپنے کاغذات نامزدگی جمع کرادیے ہیں۔خیال رہے کہ سابق صدر نے دوہزار تیرہ کے انتخابات میں بھی حصہ لینے کا فیصلہ لیا تھا لیکن انہیں نااہل قراردیدیا گیا تھا اس مرتبہ عدالت نے انکے کاغذات نامزدگی کی منظوری عدالت میں پیشی سے مشروط کردی ہے۔یاد رہیکہ اس سے قبل سابق صدرپرویز مشرف نے چترال کے حلقہ این اے ون سے بھی الیکشن لڑنے کا فیصلہ کرلیا۔پرویر مشرف نے کاغذات نامزدگی جمع کرانے کے مشروط عدالتی فیصلے کے بعد عام انتخابات میں حصہ لینے کا حتمی فیصلہ کرلیا۔ سابق صدر نے اپنےکاغذات نامزدگی چترال بھجوادیے ہیں۔پارٹی ذرائع کے مطابق پرویزمشرف چارمزید حلقوں سے بھی کاغذات نامزدگی جمع کرانے تھے۔واضح رہے کہ سال 2013 کے عام انتخابات میں بھی پرویز مشرف نے حلقہ این سے 312 چترال سے کاغذات نامزدگی جمع کرائے تھے۔دوسری جانب سپریم کورٹ نے تاحیات نااہلی کیس میں سابق صدر پرویز مشرف کو 13 جون کو طلب کر لیا ۔ سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سابق صدر پرویز مشرف کی تاحیات نااہلی کے خلاف درخواست کی سماعت کی۔عدالت نے ریمارکس دیے کہ پرویز مشرف پاکستان تو آئیں گرفتار نہیں کیا جائے گا۔ اور پاکستان میں آمد کے بعد، ان کو ذاتی حیثیت میں عدالت میں پیش ہونا ہوگا۔ سپریم کورٹ نے پرویز مشرف کی تا حیات نا اہلی کےخلاف درخواست کی سماعت میں سابق صدر کو طلب کر لیا ہے ،عدالت نے پرویزمشرف کے کاغذات نامزدگی بھی وصول کرنے کا حکم دیا ہے۔ چیف جسٹس کی سربراہی میں پرویزمشرف تاحیات نااہلی کیس کی سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی ، چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ یہ سید پرویز مشرف کون ہیں جس پر وکیل نے بتایا کہ یہ سابق آرمی چیف اور ملک کے صدر رہے ہیں ۔چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیے کہ کاغذات نامزدگی کی منظوری عدالتی فیصلے مشروط ہوگی۔ چیف جسٹس نے پرویز مشرف کے وکیل سے کہا کہ آپ کے کیس کو سنیں گ اپنے مؤکل کو کہیں 13 جون کو لاہور آ جائیں۔ جسٹس ثاقب نثار نے پرویز مشرف کو لاہور رجسٹری طلب کرتے ہوئے کہا کہ پرویز مشرف میرے سامنے پیش ہوجائیں انہیں گرفتار نہیں کیا جائےگا، ہم حکم دے دیں گے انہیں عدالت پہنچنے تک گرفتار نہ کیا جائے۔ پرویز مشرف کے وکیل نے اپنے دلائل میں کہا کہ مؤکل کے کاغذات نامزدگی کی وصولی کا معاملہ ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ مشرف کو ذاتی حیثیت میں ہرصورت عدالت میں پیش ہونا ہوگا

متعلقہ خبریں