ہندوستان و مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں کی حالت زار پر پڑھئے اہم حقائق

ہندوستان و مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں کی حالت زار پر پڑھئے اہم حقائق

ہندوستان و مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں کی حالت زار پر پڑھئے اہم حقائق 10 جون 2018 (20:15) 8:15 PM, June 10, 2018

اوریا مقبول جان نے تجزیہ کرتے ہو ئے کہا کہ بھارت میں ایک روش انکر نامی شخص نے آرٹ آف لیونگ کے نام سے ایک تنظیم بنائی ہوئی ہے. آرٹ آف لیونگ تنظیم کا پاکستان میں بھی اچھا خاصا اثر رسوخ تھا اور بنی گالہ میں اس تظیم کا مرکز تھا .یہ تنظیم پاکستان کے مُختلف ادروں اور اسکولوں کے بچوں اور بچیوں کو اُس مرکز میں لے کر جاتے ہیں . روش انکر ہندوستان میں برہمنوں کے عقیدے اور تعلیمات کو بہتر طور پر پیش کرنے کی کوشش کرتا ہے . جب بابری مسجد کا واقعہ 1992 میں ہوا تھا اُس کے بعد آثارِ قدیمہ کی تعلیمات کی تفشیش شروع کی گئی تھی .

جب میں 2007, میں بھارت گیا تو وہاں پر آثار قدیمہ کا بانی سول سروس کا رُکن تھا اور اُس نے وہاں موجود سب لوگوں سے مُجھے ملوایا .اُن میں 3 مُسلمان تھے باقی ہندو تھے اور ایک سکھ تھا . اُنھوں نے سُپریم کورٹ میں ایک رپورٹ پیش کی تھی کہ ہمیں بابری مسجد میں کسی قسم کا کوئی مندر کا نام و نشان نظر نہیں آیا . وہاں موجود مسلمانوں کا کہنا تھا کہ یہ ہندو ہمارے ساتھ نہ ہوتے تو ہم کبھی بھی یہ رپورٹ پیش نہ کرتے 2007 میں یہ معاملہ ٹل گیا تھا . جنوری2007 میں ہی ایک مشہور رپورٹ انڈیا میں آئی تھی کہ انڈیا میں مُسلمانو ں کی حالت دیلف سے بھی زیادہ بُری ہے . اس رپورٹ نے پورے ہندوستان میں طوفان مچا دیا تھا . 2007 سے پہلے 2002 میں احمد آباد کا ایک بُہت بڑا فساد ہو چُکا تھا جسمیں لوگوں کو بڑی تعداد میں قتل کیا گیا تھا , ایک خاص منصوبے کے تحت نریندر مودی کو امریکہ جانے سے روک دیا گیا اور اس پروپیگنڈے کے بعد اُس کے پاس کافی پیسہ آیا .اب سب سے بڑی بات یہ ہے کہ یو پی کا چیف جسٹس پی جے پی کا بُہت کٹر رُکن ہے جس کا کہنا ہے کہ ہم یہاں کسی مُسلمان کو نہیں رہنے دینگے اور اس نے ہی یہ کہا تھا کہ انڈیا شام بن جائیگا اگر یہاں پر مُسلمانوں کے حق میں فیصلہ آگیا .اس نے یہ بات مُختلف تنظیموں سے رابطہ رکھتے ہوئےیہ بات کہی تھی . انڈیا کی 40% فوج کشمیر میں ہے . اب جو کشمیر میں نئے حُریت پسند آئے ہیں بُرہان مُظفر وانی کی شہادت کے بعد آئے ہیں.اُن کی سوچ تبدیل ہو گئی ہے اُن کا کہنا ہے کہ اُنھیں مرنا ہے تو اللہ کیلئے مرنا ہے کہ کسی مُلک اور علاقے کیلئے نہیں مرنا اور ہندوستان کو دار الحراب قرار دے دیا جائے . بھارت میں طیب اسد مدنی نے بھی کچھ مطالبات مودی کے سامنے پیش کئے ہیں اور کہا ہے کہ اگرمطالبات ہ مانے گئے تو بغاوت کرینگے . اب انڈیا کے اندر مسلمانوں پر اس فیصلے کے بعد ظُلم و ستم کی لہر شام کے مسلمانوں کیطرح شروع کی گئی . مسلمانوں نے ہندؤؤں کو مندر بنانے نہیں دینا اور ہندؤؤں کا کہنا ہے کہ یہاں بابر نے رام کی جنم بومی پر مسجد بنائی تھی . اس کے بعد جو فیصلہ آئیگا وہ پورے برصغیر کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا اور جن منصوبہ سازوں نے یہ منصوبہ بنایا تھا کہ پورا برصغیر اس کی آگ میں جل جائے اُن کا منصوبہ کامیاب ہو جائیگا .

متعلقہ خبریں