اہم یورپی ملک کاترکی سے منسلک آئمہ مساجد کیخلاف بڑا اقدام کرنے کا اعلان

اہم یورپی ملک کاترکی سے منسلک آئمہ مساجد کیخلاف بڑا اقدام کرنے کا اعلان

اہم یورپی ملک کاترکی سے منسلک آئمہ مساجد کیخلاف بڑا اقدام کرنے کا اعلان 10 جون 2018 (14:28) 2:28 PM, June 10, 2018

آسٹریا نے کہا ہے کہ وہ ان مساجد کو بند کر دے گا اور ان سے منسلک اماموں کو ملک بدر کردے گا جو ترکی کی امدادپرکام کررہے ہیں۔ اس طرح آسٹریا مساجد کے 60 آئمہ کرام اور ان کے خاندان کے مجموعی طورپر 150 افراد کو ملک بدر کرنے کی منصوبہ بندی کررہا ہے۔

شدت پسند جماعت ’فریڈم‘ کے ایک رکن کیکل نے بتایا جن افراد کو ملک بدر کیا جا رہا ہے ان میں ترکی کے فنڈ سے کام کرنے والے ساٹھ امام شامل ہیں۔ آسٹریا کے چانسلر سبیسچیئن کُرز کا کہنا تھا کہ اس اقدام کا مقصد ملک میں سیاسی اسلام کی بیخ کنی کرنا ہے۔حکام کے مطابق انھیں شک ہے کہ کچھ مساجد کا تعلق ترکی کے قوم پرستوں سے ہے۔مذکورہ مساجد میں سے کچھ کے بارے میں شبہہ ہے کہ ان کے ترک قوم پرستوں سے رابطے ہیں۔اس سال اپریل میں کچھ ایسی تصاویر منظر عام پر آئی تھیں جن میں ان مساجد میں کچھ بچوں کو فوجی وردی میں جنگ عظیم اوّل کے دوران گیلی پولی کی لڑائی کی ڈرامائی تشکیل میں حصہ لیتے ہوا دیکھا جا سکتا تھا۔

ترکی کے صدر کے دفتر نے آسٹریا کے اس اقدام کو 'اسلام مخالف، نسل پرستانہ اور متعصب' قرار دیا گیا ہے۔

متعلقہ خبریں