افغان صدر اشرف غنی کی جانب سے جنگ بندی کی پیشکش اور طالبان کی طرف سے اس کی قبولیت مثبت پیش رفت ہے۔صدر ممنون حسین

افغان صدر اشرف غنی کی جانب سے جنگ بندی کی پیشکش اور طالبان کی طرف سے اس کی قبولیت مثبت پیش رفت ہے۔صدر ممنون حسین

افغان صدر اشرف غنی کی جانب سے جنگ بندی کی پیشکش اور طالبان کی طرف سے اس کی ... 10 جون 2018 (10:53) 10:53 AM, June 10, 2018

شنگھائی: پاکستانی صدر ممنون حسین نے کہا ہے کہ افغانستان میں امن و استحکام ہماری مشترکہ خواہش ہے جس کے لیے پاکستان ہمیشہ کی طرح تعاون جاری رکھے گا جبکہ افغان صدر کی جانب سے طالبان کو تعاون کی پیشکش کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ صدر ممنون حسین کا کہنا ہے کہ افغان صدر اشرف غنی کی جانب سے جنگ بندی کی پیشکش اور طالبان کی طرف سے اس کی قبولیت مثبت پیش رفت ہے۔چین میں شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر ممنون نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان جامع لائحہ عمل پر کام کررہے ہیں۔ افغانستان میں جنگ بندی ایک مثبت پیش رفت ہے، یہاں امن وامان مشترکہ خواہش ہے جس کے لیے پاکستان ہمیشہ تعاون جاری رکھے گا۔

تفصیلات کے مطابق شنگھائی تعاون تنظیم کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کا سدباب کر کے قیمتی تجربات حاصل کیے ہیں اور پاکستان کے تجربات سے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او ) فائدہ حاصل کرسکتی ہے، ہم ذمے داریوں کی ادائیگی میں سرخرو رہے ہیں۔ صدر مملکت نے مزید کہا کہ مختلف علاقوں میں 9صنعتی زون تعمیر کررہے ہیں۔ خطے کے عوام کی ترقی کیلئے پانچ نکاتی ترجیحات کا تعین ضروری ہے۔ انہوں نے شنگھائی تعاون تنظیم کے تحت غربت ،دہشتگردی اور انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے ترقیاتی فنڈ جیسا ادارہ قائم کرنے کی تجویز بھی دی۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ چند دہائیوں کے دوران پاکستان نے دہشت گردی کا کامیابی سے سدباب کرکے اس ضمن میں قیمتی تجربات حاصل کیے ہیں جن سے تنظیم استفادہ حاصل کرسکتی ہے۔ صدر ممنون حسین نے کہا کہ چند برسوں کے دوران پاکستان میں امن وامان کی صورت حال مستحکم ہوئی اور کاروبار کے لیے صورت حال میں بہتری آئی ہے جبکہ رواں سال جی ڈی پی کی شرح گزشتہ دہائی میں سب سے بلند رہی ہے۔

پاکستان اور افغانستان دو طرفہ بنیادوں پر جامع لائحہ عمل کے تحت کام کر رہے ہیں جب کہ شنگھائی تعاون تنظیم کے تحت افغان رابطہ گروپ کا قیام خوش آئند ہے۔ صدر ممنون حسین کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کی کارکردگی بین الاقوامی اداروں میں مثبت طور پر ریکارڈ ہوئی اور پاکستان نجی سرمایہ کاری کے لیے بھی بہترین منزل قرار پایا ہے جب کہ ہماری کامیابیوں کو سی پیک نے مزید تقویت پہنچائی ہے۔

چند سالوں کے دوران پاکستان میں امن و امان کی صورتحال مستحکم ہوئی اور کاروبار کے لیے صورتحال میں بہتری آئی ہے، رواں سال جی ڈی پی کی شرح گزشتہ دہائی میں سب سے بلند رہی ہے۔ صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان اس لحاظ سے جنوبی ایشیا میں پہلے اور عالمی سطح پر پانچویں نمبر پر ہے، ہم مستقبل میں ترقی کی رفتار میں مزید اضافے کی توقع کر رہے ہیں۔

سرمایہ کاری ،تجارت، ای کامرس، ریلوے اور سیاحت کے فروغ کو ایس سی او کے اقدامات مضبوط بنا سکتے ہیں، خطے کے عوام کی ترقی، فلاح و بہبود کے لیے 5 نکاتی ترجیحات کا تعین ضروری ہے، خطے کے تمام ترقیاتی منصوبوں کی حمایت کی جائے۔ صدر مملکت نے کہا کہ اقوام عالم کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے سب ایک ہوں، دیرپا امن و استحکام کے لیے باہمی اعتماد کے فروغ کے لیے خصوصی اقدامات کیے جائیں جس سے خطے کے ملکوں میں تجارت اور اقتصادی سرگرمیاں فروغ پاسکیں۔انہوں نے کہا کہ چند برسوں میں پاکستان میں امن وامان کی صورتحال مستحکم ہوئی جبکہ سی پیک نے پاکستانی معیشت کو مزید تقویت پہنچائی ہے۔ رواں سال جی ڈی پی گزشتی دہائی کی نسبت سب سے زیادہ بلند رہی ہے اور پاکستان نجی سرمایہ کاری کیلئے بہترین قرار پایا۔

صدر ممنون حسین نے تجویز دی کہ ایس سی او کے تحت غربت کے خاتمے پر توجہ دی جائے اور دہشت گردی و انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے ترقیاتی فنڈ جیسا ادارہ قائم کیا جائے، رکن ممالک کے نوجوانوں کی صلاحیت کے لیے بھی ٹھوس اقدامات کیے جائیں۔یاد رہے کہ گزشتہ روز صدرممنون حسین نے چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات کی تھی جس میں دو طرفہ تعلقات سمیت علاقائی سلامتی کی صورت حال اورعالمی امور پربھی تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔

متعلقہ خبریں