مخالفین کی طرف سے بڑے طریقے استعمال کیے گئے تھے بلیک میل کرنے کے -یہ کہ یہ آپ کی بیٹی ہے -اس کی عزت کا۔۔۔۔۔۔۔پڑھئے خدیجہ کیس کے اہم حقائق

مخالفین کی طرف سے بڑے طریقے استعمال کیے گئے تھے بلیک میل کرنے کے -یہ کہ یہ آپ کی بیٹی ہے -اس کی عزت کا۔۔۔۔۔۔۔پڑھئے خدیجہ کیس کے اہم حقائق

مخالفین کی طرف سے بڑے طریقے استعمال کیے گئے تھے بلیک میل کرنے کے -یہ کہ یہ آپ ... 09 جون 2018 (22:44) 10:44 PM, June 09, 2018

خدیجہ کا کہنا ہے کہ :" مخالفین کی طرف سے بڑے طریقے استعمال کیے گئے تھے بلیک میل کرنے کے -یہ کہ یہ آپ کی بیٹی ہے -اس کی عزت کا معاملہ ہے آپ لوگوں سے نہیں ہینڈل ہو گا یہ کیس -آپ اس کیس کو چھوڑ دیں معاشرے میں آپ کی بڑی ذلالت ہو گی -اس حد تک گئے وہ لوگ -اور میں اسی لیے کھڑی ہوں کہ عورتیں کمزور نہیں ہیں آپ ان پر حملہ کر کے یہ نہیں سمجھ سکتے کہ آپ قانون سے بالاتر ہیں آپ آزاد ہیں آپ کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ ایک وکیل کے بیٹے ہیں تو آپ کو سزانہیں ملے گی -مخالف پارٹی کی طرف سے ہی مجھ پر پریشر نہیں تھاگھر سے مجھے میرے والدین نے بہت سپورٹ کیا ایسے والدین آج کل بہت کم دیکھنے میں آتے ہیں ہر مشکل میں ساتھ کھڑے رہتے تھے -فیملی کے کچھ لوگ کہتے تھے کہ یہ نہ کرو بہت لمبا پراسس ہے پیسے بہت لگیں گے اور کچھ ایسے تھے جنہوں نے پہلے تو کہا کہ یہ نہ کرو لیکن فیصلے کے بعد انہوں نے میرا ساتھ دیا اور کہا کہ یہ ہمارے لیے باعث فخر ہے اور میرا خیال ہے کہ پاکستان میں یہ پہلی دفعہ ہوا ہےکہ کسی وکیل کے بیٹے کو سزا ہوئی ہے کیونکہ ہمارے ہاں یہ سمجھا جاتا ہے کہ وکیل کے بیٹے کو سزا نہیں ہو سکتی - بڑے سوال اٹھتے ہیں میرا خیال ہے کہ ہم جس سوسائٹی میں رہتے ہیں اس میں جب جرم ہوتا ہے تو اس کی وجوہات میں جانے کے بجائے اس کی وجوہات کو دبا دیا جاتا ہے کہ بھائی تم لڑکی ہو تمہاری ہی غلطی ہو گی اور پھر اس کی سزا نہیں ملتی - وہ لوگ میرے حامیوں کے پاس جاتے ہیں ان سے میرے کردار کے بارے میں بات کرتے ہیں اور پھر کہتے ہیں کہ ہم بیٹیوں والے ہیں کیا بیٹیوں والے ایسے ہوتے ہیں جو دوسرے کی بیٹیوں کے کردار کے بارے میں باتیں کرتے ہیں اور پھر اگر کوئی گلٹ ہو کہ میں نے یہ کیوں کیا لیکن اگر ایسی کوئی چیز نظر نہ آئے تو یہ کیسے ہم کہہ سکتے ہیں کہ ایسے شخص سے معاشرے کو خطرہ نہ ہوگا ایک جج نے مجھے بلایا تھا میں یہ نہیں کہوں گی کہ وہ ان کے حق میں تھے - انہوں نے اس کی سزا دو سال کم کی تھی لیکن یہ اس سے بہتر تھا کہ سزا بالکل ہی ختم کر دی جاتی جج صاحب نے مجھے بلایا تھا اور کہا کہ بے قتلوں کے کیسوں میں صلح ہو جاتی ہے -یہ تو چھوٹا سا کیس یے -جج صاحب نے یہ کہا لیکن میرا مقصد تھا سزا دلوانا چاہے وہ اس جج س ملتا ہے یا ہائی کورٹ کے جج سے ملتا ہے تاکہ ہمارے معاشرے کی جو بقا ہے وہ قائم رہے ہماری جو امیدیں ہیں جوڈیشل کے ساتھ وہ قائم رہیں - ایک عورت جو عداکت کا دروازے پر جائے اور اس کو دھتکار دیا جائے تو وہ کیسی کھڑی رہے -اسے سات سال کی سزا ملی تو اتنے کڑے وقت کے بعد ہم نے کہا چلو کچھ نہ ہونے سے کچھ ہونا بہتر ہے -لیکن ہائی کورٹ سے بالکل توقع نہیں تھی کہ ہائی کورٹ اس کو باعزت بری کر دے گی اب سپریم کورٹ سے توقع ہے کہ اس کی جو پاور ہے وہ اسے دس سال کی سزا دے گی لیکن جتنے لوگوں کا خون پسینہ اس میں شامل ہے میرے تو جو تئیس خنجر لگے اور خون کی بالٹیاں بہی وہ تو الگ ہے اس کے بعد جو مشقتیں اٹھانا پڑیں کورٹ میں لوگوں کی باتیں کیونکہ کسی کے کردار پہ انگلی اٹھانا بہت آسان ہے لیکن اس کو روکنا بہت مشکل ہے -میڈیا کا اس میں بڑا اچھا رول رہا میں سمجھتی ہوں کہ اب یہ عوام کی دلچسپی کا کیس بن چکا ہے جب تک آپ کو اللّٰہ پہ یقین ہو تب تک آپ ہمت نہیں ہارتے -"

متعلقہ خبریں