چیف جسٹس کو اب احساس ہو رہا ہے کہ ہم ان چیزوں میں پاکستانی قوم کو یہ نہیں بتا سکتے کہ ہمارے ججز اور آرمی چیف غدار ہیں اس طرح ۔۔۔۔۔۔سابق اٹارنی جنرل کی عجیب منطق

چیف جسٹس کو اب احساس ہو رہا ہے کہ ہم ان چیزوں میں پاکستانی قوم کو یہ نہیں بتا سکتے کہ ہمارے ججز اور آرمی چیف غدار ہیں اس طرح ۔۔۔۔۔۔سابق اٹارنی جنرل کی عجیب منطق

چیف جسٹس کو اب احساس ہو رہا ہے کہ ہم ان چیزوں میں پاکستانی قوم کو یہ نہیں بتا ... 09 جون 2018 (17:52) 5:52 PM, June 09, 2018

سابق اٹارنی جنرل عرفان قادری کا کہنا ہے کہ : "آپ کو یاد ہو گا کہ میں نے کہا تھا جنرل پرویز مشرف نے جو ججز کو نکالا تھا وہ ایک ماورائے قانون اقدام تھا اور وہ ایک ہائیٹ ریزن اقدام تھا -سپریم جورٹ کو جب میں اٹارنی جنرل تھا اس وقت کہا تھا کہ بیشک یہ ایک ماورائے قانون قدم ہے لیکن ضروری نہیں کہ یہ یائیٹ ریزن میں ہی آئے اور ماورائے آئین جتنے بھی اقدامات ہوئے ہیں وہ ججز خود اس پر لبیک کہتے رہے ہیں موجودہ جو چیف جسٹس ہیں یہ پی سی او جج اور افتخار چودھری صاحب بھی پی سو او جج تھے اور یہ جرنلوں کے ہاتھ پر خود حلف اٹھاتے رہے ہیں اور جنرل پرویز مشرف نے جتنے ججز نکالے تھے وہ سب نان پی سی او ججز تھے اور میرا خیال ہے کہ چیف جسٹس کو اب احساس ہو رہا ہے کہ ہم ان چیزوں میں پاکستانی قوم کو یہ نہیں بتا سکتے کہ ہمارے ججز اور آرمی چیف غدار ہیں اس طرح فوج اور قوم کے درمیان ایک خلیج پیدا ہو سکتی ہے اور آئینی طور پر بھی اور قانونی طور پر بھی یہ فیصلہ اکتیس مارچ والا غلط تھا اور یہ جو نواز شریف اور جہانگیر ترین اور دوہری قومیت رکھنے والوں کو نااہل کیا ہے یہ میں شروع سے کہتا رہا کہ یہ غیر آئینی ہے اور انہیں سارے کیس دوبارہ دیکھنے پڑیں گےورنہ چیف جسٹس صاحب اس طرف اشارہ نہ دیتے -"

متعلقہ خبریں