احمد فراز:ناصحا تجھ کو خبر کیا کہ محبت کیا ہے,,,,,,,,, روز آ جاتا ہے سمجھاتا ہے یوں ہے یوں ہے

احمد فراز:ناصحا تجھ کو خبر کیا کہ محبت کیا ہے,,,,,,,,, روز آ جاتا ہے سمجھاتا ہے یوں ہے یوں ہے

احمد فراز:ناصحا تجھ کو خبر کیا کہ محبت کیا ہے,,,,,,,,, روز آ جاتا ہے سمجھاتا ہے ... 09 جون 2018 (11:31) 11:31 AM, June 09, 2018

اس کا اپنا ہی کرشمہ ہے فسوں ہے یوں ہے

یوں تو کہنے کو سبھی کہتے ہیں یوں ہے یوں ہے

جیسے کوئی در دل پر ہو ستادہ کب سے

ایک سایہ نہ دروں ہے نہ بروں ہے یوں ہے

تم نے دیکھی ہی نہیں دشت وفا کی تصویر

نوک ہر خار پہ اک قطرۂ خوں ہے یوں ہے

تم محبت میں کہاں سود و زیاں لے آئے

عشق کا نام خرد ہے نہ جنوں ہے یوں ہے

اب تم آئے ہو مری جان تماشا کرنے

اب تو دریا میں تلاطم نہ سکوں ہے یوں ہے

ناصحا تجھ کو خبر کیا کہ محبت کیا ہے

روز آ جاتا ہے سمجھاتا ہے یوں ہے یوں ہے

شاعری تازہ زمانوں کی ہے معمار فرازؔ

یہ بھی اک سلسلۂ کن فیکوں ہے یوں ہے