پاکستان نے چین کے جیو کوان خلائی مرکز سے اپنے ’’ پاکستان ریموٹ سینسنگ سیٹلائٹ -1‘‘(پی آر ایس ایس -1) کو سوموار کی صبح خلا میں چھوڑ دیا ہے۔

پاکستان نے چین کے جیو کوان خلائی مرکز سے اپنے ’’ پاکستان ریموٹ سینسنگ سیٹلائٹ -1‘‘(پی آر ایس ایس -1) کو سوموار کی صبح خلا میں چھوڑ دیا ہے۔

پاکستان نے چین کے جیو کوان خلائی مرکز سے اپنے ’’ پاکستان ریموٹ سینسنگ ... 09 جولائی 2018 (23:22) 11:22 PM, July 09, 2018

پاکستان نے چین کے جیو کوان خلائی مرکز سے اپنے ’’ پاکستان ریموٹ سینسنگ سیٹلائٹ -1‘‘(پی آر ایس ایس -1) کو سوموار کی صبح خلا میں چھوڑ دیا ہے۔

پی آر ایس ایس -1 پہلا آپٹیکل ریموٹ سینسنگ خلائی سیارہ ہے اور یہ چین نے پاکستان کو فروخت کیا تھا۔ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان ( اے پی پی) کے مطابق چین کی اکیڈیمی برائے خلائی ٹیکنالوجی کا کسی دوسرے خریدار ملک کے لیے تیار کردہ یہ سترھواں سیارہ ہے۔ پاکستان کے دفتر خارجہ کے ایک بیان کے مطابق پی آر ایس ایس -1 کا وزن 12 سو کلوگرام ہے اور یہ 640 کلومیٹر کی بلندی پر کام کرے گا۔ اس سے پاکستان کی ارضی نقشہ نویسی ، زراعت کی درجہ بندی اور جائزے ، شہری اور دیہی منصوبہ بندی ، ماحول کی نگرانی ،قدرتی آفات کے انتظام اور سماجی ،اقتصادی ترقی کے لیے پانی کے وسائل کے انتظام کے شعبوں میں تصویری ضروریات پوری ہوں گی۔پی آر ایس ایس -1 کو بیلٹ اور روڈ ریجن کےلیے سینسنگ معلومات فراہم کرنے کے لیے بھی استعمال کیا جائے گا۔پی آر ایس ایس -1 کے ساتھ پاکستان نےاپنا تیارکردہ خلائی سیارہ پاکستان ٹیکنالوجی ایوالیوایشن سیٹلائٹ -1 اے (پاک ٹیس – 1 اے) کو بھی چین کے ا سی خلائی مرکز سے چھوڑا ہے۔پاک ٹیس – 1 اے پاکستان اسپیس اینڈ اپر ایٹماسفیئر ریسرچ کمیشن ( سپارکو) کے انجنئیروں نے تیار کیا ہے۔اس کا وزن 285 کلوگرام ہے۔اس کی ساختہ مدت تین سال بتائی گئی ہے اور یہ 610 کلومیٹر کی بلندی پر کام کرے گا۔ان دونوں سیاروں کو سوموار کی صبح آٹھ بج کر 57 منٹ پر کامیابی سے خلا میں چھوڑا گیا تھا ۔دفتر خارجہ کے بیان کے مطابق اس اہم کامیابی سے پاکستان اور چین کے درمیان خلائی شعبے میں تعاون کو مزید فروغ حاصل ہوگا۔ پاکستان کے صدر ممنون حسین اور نگران وزیراعظم ناصر الملک نے اس تاریخی موقع پر پوری قوم کو مبارک باد دی ہے اور سپارکو کے سائنس دانوں اور انجنیئروں کی ان تھک کوششوں اور اس شاندار کامیابی کو سراہا ہے۔

متعلقہ خبریں