پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری اور اُن کی بہن فریال تالپور کے خلاف منی لانڈرنگ کا مقدمہ درج

پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری اور اُن کی بہن فریال تالپور کے خلاف منی لانڈرنگ کا مقدمہ درج

پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری اور اُن کی بہن فریال تالپور کے ... 09 جولائی 2018 (13:28) 1:28 PM, July 09, 2018

سپریم کورٹ کے حکم پر پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری اور اُن کی بہن فریال تالپور کے خلاف منی لانڈرنگ کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور اُن کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کر لئے گئے ہیں۔

اس کیس کے حوالے سے کہا جارہا ہے کہ سابق وزیراعظم نوازشریف کے بعد سابق صدر آصف علی زرداری اور ان کی بہن فریال تالپور کے گرد گھیرا تنگ کیا جارہا ہے اور کرپشن کے مقدمات میں اب ان کی باری کہی جارہی ہے۔سپریم کورٹ نے سمٹ بینک، سندھ بینک اور یو بی ایل کے سربراہان کے نام بھی ای سی ایل میں ڈالنے کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ جعلی بینک اکاؤنٹس کی تحقیقات کیلئے پاناما طرز پر جے آئی ٹی بنائی جائے جس میں مالیاتی ماہرین بھی شامل ہوں۔چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے جعلی بینک اکاؤنٹس ازخود نوٹس کی سماعت کی۔ ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن عدالت میں پیش ہوئے اور بتایا کہ 2010 میں خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر انکوائری شروع کی گئی۔بشیر میمن کا کہنا تھا کہ تحقیقات کے دوران 4 اکاوٴنٹس کی نشاندہی ہوئی۔ بعدازاں 29 اکاوٴنٹس کا پتہ چلا جن میں سے 16 سمٹ بینک، 8 سلک بینک اور 5 یو بی ایل کے اکاوٴنٹ تھے۔ یہ اکاوٴنٹس 7 لوگوں سے متعلق تھے جن سے 35 ارب روپے کی ٹرانزیکشنز ہوئیں۔ میرے احکامات پر سمٹ بینک کا سندھ بینک میں انضمام روکا گیا۔چیف جسٹس نے 29 اکاؤنٹ ہولڈرز کے نام پوچھے جس پر بشیر میمن نے بتایا کہ 7 ملزمان کے نام پر یہ 29 اکاؤنٹس ہیں۔ طارق سلطان کے نام پر 5 اور ارم عقیل کے نام پر دو اکاوٴنٹس ہیں۔ یہ دونوں افراد ایک دوسرے سے رابطے میں ہیں۔ محمد اشرف کے نام پر ایک ذاتی اور 4 لاجسٹک ٹریڈ کے اکاؤنٹس ہی۔ محمد عمیر بیرون ملک ہیں اور ان کا ایک ذاتی اور 6 اکاؤنٹس حمیرا اسپورٹس کے نام پر ہیں۔ عدنان جاوید کے 3 اکاوٴنٹس لکی انٹرنیشنل کے نام پر ہیں۔ قاسم علی کے تین اکاؤنٹس رائل انٹرنیشنل کے نام سے ہیں۔ محمد اشرف سمیت 6 افراد نے سندھ ہائیکورٹ سے رجوع کررکھا ہے۔ سمٹ بینک کے عدیل ارشد کو ایف آئی اے سے تعاون کرنے کا کہا گیا ہے۔ ہم ان تمام افراد کو طلب کررہے ہیں۔ڈی جی ایف آئی اے نے بتایا کہ جعلی اکاؤنٹس سے7 کروڑ روپے انصاری شوگر مل کو گئے۔ اومنی کو 50 لاکھ، پاک ایتھانول ڈیڑھ کروڑ، چمبڑ شوگر 20 کروڑ، ایگرو فارم کو 57 لاکھ روپے اور زرداری گروپ پرائیویٹ لمیٹڈ کو ڈیڑھ کروڑ روپے دیے گئے۔چیف جسٹس نے کہا کہ 35 ارب روپے کے فراڈ کرنے والے کو آپ نے بلایا بھی نہیں۔ اب تک تفتیش کے مطابق ان کے پیچھے کون ہے؟ْ بشیر میمن نے کہا کہ ہم نے سب کو نوٹس جاری کیے، مقدمہ بھی درج کروادیا ہے، حسین لوائی گرفتار ہوچکے ہیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ کتنے دن میں یہ انکوائری مکمل کرلیں گے؟ جن لوگوں سے آپ لڑنا چاہ رہے ہیں وہ آپ کے قابو میں نہیں آئیں گے۔ آپ کو سپریم کورٹ کی مدد درکار ہو گی۔ وائٹ کالر کرائم کو پکڑ لیا تو تمام مسائل حل ہو جائیں گے۔ سمٹ، سندھ اور یو بی ایل بینک کے سربراہان کو بلا لیتے ہیں۔ اگر وہ ریکارڈ فراہم نہیں کرتے تو ہم دیکھ لیں گے۔ کیا نیب اور ایف آئی اے کی جوائنٹ ٹیم نہیں بن سکتی؟ پاناما طرز پر جے آئی ٹی بنائیں جس میں فنانشل ماہرین بھی ہوں۔سپریم کورٹ نے سمٹ بینک، سندھ بینک اور یو بی ایل کے سربراہان اور سی ای او کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ان کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ یہ لوگ انکوائری مکمل ہونے تک بیرون ملک نہیں جاسکتے۔

متعلقہ خبریں