اسرائیل میں ترک خاتون سیاح گرد تنظیم سے وابستگی کے الزام میں گرفتار

اسرائیل میں ترک خاتون سیاح گرد تنظیم سے وابستگی کے الزام میں گرفتار

اسرائیل میں ترک خاتون سیاح گرد تنظیم سے وابستگی کے الزام میں گرفتار 09 جولائی 2018 (11:51) 11:51 AM, July 09, 2018

اسرائیلی پراسیکیوٹر جنرل نے زیرحراست تُرک خاتون سیاح پر دہشت گرد تنظیم سے وابستگی اور صہیونی ریاست کو خطرے میں ڈالنے میں کے الزام میں فرد جرم عاید کرنے کی تیاریاں شروع کی ہیں۔ دوسری جانب خاتون سیاح کی گرفتاری اور اس کے خلاف مقدمہ پر ترکی اور اسرائیل کے درمیان تعلقات میں مزید تناؤ سامنے آیا ہے۔

تُرک خاتون شہری ایبرو اوزکان کو اسرائیلی فوج نے گیارہ جون 2018ء کو اللد ہوائی اڈے سے استنبول جاتے ہوئے حراست میں لے لیا تھا۔27 سالہ اوزکان کو خفیہ ادارے ’شاباک‘ کے اہلکاروں نے حراست میں لیا جس کے بعد اس کے خلاف مشکوک انداز میں ٹرائل شروع کردیا گیا تھا۔ اوزکان کے وکیل کا عمارہ خمیسی نے’رائٹرز‘ کو بتایا کہ ان کی موکلہ کو حراست کے عرصے میں اپنے وکیل سے ملنے اور ترکی میں بات چیت کرنے کی اجازت بھی نہیں دی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیلی حکام اوزکان پر بے بنیاد مقدمہ چلا رہے ہیں۔ اس پر عاید الزام میں کہا گیا ہے کہ اوزکان نے قیمتی عطر کی پانچ بوتلیں اسمگل کی تھیں جنہیں فروخت کرکے وہ رقم حماس کو دینا چاہتی تھی۔ان پراسرائیلی ریاست کی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے اور ایک دہشت گرد تنظیم سے تعلق کے الزام میں فرد جرم عاید کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔وکیل دفاع کا مزید کہنا ہے کہ صہیونی حکام نے اوزکان پر اسلامی تحریک مزاحمت [حماس] سے تعلق کا الزام عاید کیا ہے تاہم ازکان نے تمام الزامات مسترد کردیے ہیں۔

گذشتہ جمعہ کو ترک وزیرخارجہ جاویش اوگلو نے اسرائیل میں گرفتار اپنی شہری کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ’اوزکان ہماری بہن ہیں اور ان کی باعزت رہائی کے لیے ہرممکن اقدامات کیے جائیں گے۔ انہوں نے اسرائیل پر الزام عاید کیا کہ وہ ترک شہریوں کو القدس میں داخلے سے روکنے کے لیے ان کے خلاف بے بنیاد الزامات کے تحت مقدمات قائم کرکے انہیں خوف زدہ کررہا ہے۔

متعلقہ خبریں